جہاں سانسیں نہیں چلتیں وہاں کیا چل رہا ہے

جہاں سانسیں نہیں چلتیں وہاں کیا چل رہا ہے
بہشت خاک میں اے رفتگاں کیا چل رہا ہے
پرانے دکھ نئے کپڑے پہن کر آ گئے ہیں
یہ اپنے شہر میں آزردگاں کیا چل رہا ہے
یہ جن کے اشک میری جان کو آئے ہوئے ہیں
میں ان سے پوچھ بیٹھا تھا میاں کیا چل رہا ہے
ہمارا بھوک نے منہ بھر دیا ہے گالیوں سے
تمہارے بد نصیبوں کے یہاں کیا چل رہا ہے
ہیں اشکوں کے نشانے پر مسلسل دکھ ہمارے
یہ چالیں ہم سے اندوہ جہاں کیا چل رہا ہے
ندامت سے میں اپنا منہ چھپاتا پھر رہا ہوں
یہ میرے دوستوں کے درمیاں کیا چل رہا ہے
یہاں ہر روز ہونٹوں کے گنے جاتے ہیں ٹانکے
تمہارے شہر میں شعلہ بیاں کیا چل رہا ہے
چلا کر گولیاں مجھ پر پرندوں کو بتاؤ
جہاں پنجرے نہیں بنتے وہاں کیا چل رہا ہے
تو پھر قابو کیا ہے ہجر کس جادو سے تم نے
اداسی گر نہیں افسردہ گاں کیا چل رہا ہے
ہمارے رہبروں کو جان کے لالے پڑے ہیں
تمہارے رہبروں میں گمرہاں کیا چل رہا ہے
ڈاکٹر کبیر اطہر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے