جہاں نوردوں کو دنیا میں جو بھی باغ ملا

جہاں نوردوں کو دنیا میں جو بھی باغ ملا
اگر علم نہ ملا تو وہاں چراغ ملا

یہ کار عشق ہمی سے ہے معتبر جن کو
جبیں پہ بوسہ ملا اور لبوں پہ داغ ملا

ہم ایک دوجے کا منہ نوچنے ہی والے تھے
خدا کا شکر ! ہمیں ہجر کا سراغ ملا

زمانہ میری خموشی سے تھک گیا تو اسے
مری کتاب کو پڑھ کر مرا دماغ ملا

وگرنہ کار جہاں سے نجات کس کو ہے ؟
تری تمنا میں مجھ کو بڑا فراغ ملا

ہمارے عشق کے چرچے پہ اس کے ہونٹ کھلے
ہماری اینٹ سے دیوار کا سراغ ملا

مری شکست کا اعلان جب ہوا آرش
تو ایک دوست کے شانے پہ ایک زاغ ملا

سرفراز آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے