جہالت کے اندھیروں کو جلانے کے لیے آئے

جہالت کے اندھیروں کو جلانے کے لیے آئے

جہاں سے بحرِظلمت کو مِٹانے کے لیے آئے

عرب کے ریگزاروں میں محمد ابنِ عبداللہ

غلامی کی زنجیریں خود کٹانے کے لیے آئے

بتوں کی اکثریت سے خُدا کو بھول بیٹھے تھے

خُدا کی شان دنیا کو دکھانے کے لیے آئے

میرے مولا ! محمد ؐمصطفےٰ کی شان کیا کہنا

مسلمان کے لیے کیا وہ زمانے کے لیے آئے

ہوئے ہیں منتظر جس کی نگاہِ ناز کے عیسٰی

وہی ختم الرسل ؐ دیدار دینے کے لیے آئے

میں ہوں نورِ محمدؐ عاشقِ محبوبِ ربانی

میرے مولاؐ میری سیرت بنانے کے لیے آئے

حضرت نور محمد عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے