جگہیں خالی نہیں ہوتیں

جگہیں خالی نہیں ہوتیں

ہم اپنے آنگنوں سے آسماں کو دیکھتے ہیں
آرزو کے پر بنا کر اُڑنے لگتے ہیں
فصیلیں پار کرتے ہیں
خجل ہوتے ہوئے اُس سمت کی تفہیم کُھلتی ہے
کہ ناگفتہ سی خواہش چیتھڑوں میں لوٹ آتی ہے
کٹھن پرواز کے گھاو تہوں میں لِپٹے رہتے ہیں
جگہیں خالی نہیں ہوتیں
کسی انسان کو تسخیر کرنے کی تمنا
خود کی پسپائی سے ہوتی ہے
مگر ریزہ ہوئے آئینہ ء احساس پر جاروب پھرتا ہے
عجب پُرپیچ رستہ ہے
کواڑوں پر کئی ہاتھوں کی دستک دیکھ کر مایوس ہوتے ہیں
مُرادوں کی جگہیں خالی نہیں ہوتیں
مگر اُمید کڑیوں میں لٹکتی ہے
نحوست ہے
شبِ بے چارگی ہے
بھیرویں کا راگ کانوں میں نہیں پڑتا
جنہیں وارفتگی سے ڈھونڈنے میں عمر لگتی ہے
سُلگتی آگ بجھتی ہے
اُنہیں پھر سے پلٹ کر دیکھنے کی چاہ مرتی ہے
دِلوں میں چاہتوں کی چھاگلوں سے خوں ٹپکتا ہے
یہ کُوڑا ڈسٹ بن کا پیٹ بھرتا ہے
مسافر بے دِلی سے چلتا رہتا ہے
جگہیں خالی نہیں ہوتیں

عرفان شہود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے