جدید ٹیکنالوجی اور معصوم طلباء

جدید ٹیکنالوجی اور معصوم طلباء
وہ آدھی کھلی آدھی بند آنکھوں سے بار بار اپنے فون کی اسکرین کو دیکھ رہی تھی اور مسلسل ایک ہنسی, تشویش ناک, خوشی, حیرت زدہ, اور دیگر ملی جلی کیفیات کا ایک ہی وقت میں شکار تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا اور کیسے ہونے جا رہا ہے اور نتیجہ کیا نکلے گا, بس وہ اپنی سہیلیوں سے بذریعۂ واٹس ایپ مسلسل رابطے میں تھی اور ہر چند منٹ بعد ایک دھیمی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آجاتی۔ دوسری جانب سے جوابات کچھ موصول ہی اس قسم کے ہو رہے تھے کہ مسکراہٹ چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔
یہ کہانی ہے دراصل ایک شعبۂ اسلامی ثقافت و تقابلِ ادیان کی فائنل ائیر کی طالبہ کی جس نے تقریباً 3 ماہ پعد پہلی کلاس لی(ایک وبا کی وجہ سے حفاظتی اقدام کے سبب) اور بھی آن لائن۔
جی ہاں آن لائن, وہ سب ہی اس اچانک ملنے والی خبر پر ایک ہی وقت میں اپنے اپنے اصطبل(گھوڑے بیچ کر) قبل از وقت بیچ کر اب بیٹھ چکی تھیں اپنی اپنی چھوٹی سی دنیا (اسمارٹ فون) کے سامنے۔ اس انتظار میں کہ کب ان کے ٹیچر کا میسج موصول ہو اور بالکل اس ہی طرح جس طرح (حیدرآباد کی شٹل میں ایک عدد سیٹ ملنے پر جس جنگِ عظیم سے گزر کر اور اپنی اپنی حد تک کُشتی, کراٹے, فائیٹنگ, ریسلنگ جیسے کٹھن سفر سے گزر کر ایک بہت ہی پسماندہ اور نہایت کمزور چار پہیوں پر مشتمل ایک ٹوٹی کھڑکیوں اور پھٹے سیٹ کورز کی ایک چھوٹی سی بس میں سوار ہونے کے لیے ہوائی جہاز کی رفتار سے اڑنے کی کوشش میں کامیاب ہوجاتی تھیں) اس جمِ غفیر نے زوم کلاس روم پر ہلہ بولنا تھا۔
جیسے تیسے کر کے وقتِ مقررہ پر اس نے فون ہاتھ میں لیا تو پیروں تلے زمین ہی نکل گئی, یہ دیکھ کر کہ ایک کلاس ابھی ہو رہی ہے۔ اگر تو بات صرف اس ہی حد تک تھی کہ کوئی کلاس وقت سے پہلے ہورہی ہے جو کہ آدھ گھنٹے بعد ہونا تھی تو شاید زمین نہ سہی آسمان تو سر پر رہتا پر یہ کیا یہ تو وہ کلاس ہو رہی تھی کہ جس کی نہ امید تھی نہ کوئی امید کی کرن یا شمع۔ اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا, اور رات کو پوچھے گئے سوالات اور ان کے نہایت یقینِ مستحکم سے دیے گئے جوابات…
کہ کلاس 10:10 پر شروع ہوگی اطمینان سے سب نہایت ادب و اخلاق کے دائرے میں تشریف لے آئیں۔ وہ تو گویا قلب و ذہن کو مکمل طور پر مطمئن کر کے ہی اصطبل بیچنے گئی تھی پر یہ کیا.. صبح تو یہ دھماکہ ہوا کہ سر کلاس لے رہے ہیں وقت سے پہلے ہی۔
جیسے تیسے کر کے ہاتھ پیر مار کر واٹس ایپ گروپ کے پچاس مجسز کو جلدی جلدی پڑھنے کی کوشش میں تیزی سے چلاتی انگلیوں سے آخر کار وہ پہنچ گئی اس پتے (کلاس لنک اڈریس) پر…
اب جوں ہی اس نے دستک دی, تو اب تو بغیر چھت اور زمین کے جو چار اطراف میں دیواریں محض سہارے کے لیے کھڑی تھیں دھڑام سے گریں, یہ کیا کلاس تو ختم ہوچکی ہے, سر جاچکے ہیں, اف.. یہ کیا بندہ حاضری تو لگوائے کم از کم, یونیورسٹی بھی تو حاضری, فوٹوگرافی, گپ شپ اور ہاں تھوڑا سا پڑھنے ہی جاتے تھے۔
وہ جیسے ہی کلاس روم پر پہنچی تو یہ دیکھ کر حیرت کہ دس بارہ پہاڑ ایک ہی وقت میں اس کے سر پر آگرے اور وہ بمشکل ہی اپنے آپ کو سنبھال سکی کہ یہ کیا دن کی شروعات ہی اتنے بڑے کیک (عزت افزائی) کے ساتھ ہو گئی ہے اب نہ جانے باقی دن کیسا گزرے گا اس کے پوچھنے پر یہ پتا چلا کہ سر تو اس ہی کے کہنے پر یہاں تشریف لائے تھے اور وہ ہی غائب تھی۔
ہئے وقت کی ستم ظریفی, نیند کی قربانی, اصطبل کی نہایت سستے داموں فروخت اور پھر علی الصبح چائے کی جگہ یہ کیک مل گیا۔ ظلم کی انتہا تو یہ کہ وہ اپنے بہت پرانے اور قیمتی الارم(والدہ ماجدہ) کو یہ کہہ کر اصطبل بیچنے گئی تھی کہ دس بجے اٹھادیا جائے, یہ جانتے ہوئے کہ نو بجے ہی سے اس کے سر پر دنیا بھر کے ڈھول تاشے بجادیے جائیں گے اور یہی ہوا اسے 9:30 پر اٹھا کر بٹھا دیا گیا, وہ حواس باختہ سی اٹھی اور پہلا ہی کیک مل گیا, وہ بھی دس منزلہ۔
خیر اس نے حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے دوسری کلاس کا وقت پوچھا اور بتایا گیا کہ دوسری کلاس گیارہ بجے شروع ہوگی وہ اطمینان سے اپنے نہایت اہم کاموں میں مصروف ہو گی کہ عین وقت پر تشریف آوری ہوجائے گی ہماری۔
آفرین اس توکل پر…!
مگر یہ کیا جب اس نے اپنی چھوٹی سی دنیا پر دنیا کا تیز ترین نیوز چینل (واٹس ایپ گروپ کھولا) تو یہ دیکھ کر اس کے پیروں سے زمین کی دوسری تہہ بھی نکل گئی کہ کلاس پچھلے دس منٹ پہلے شروع ہوچکی ہے۔
جیسے تیسے کر کے وہ اس پتے پر پہنچی اور یہ دیکھ کر قلب و ذہن کو سکون اور اطمینان نے آن گھیرا, چلو نہ ہونے سے ہونا بہتر۔
اس کی معصوم توقعات کے مطابق اس کلاس میں استاد صاحب نے کچھ بہت اہم موضوع پڑھانا تھا اسلیے وہ بھی تمام تر قہقہوں اور مسکراہٹوں کو ایک گھنٹے کے کیے الوداع کہہ آئی تھی۔
کہ اچانک استاد صاحب کے کہنے پر ایک بھائی نے ہاتھ اٹھایا سوال پوچھنے کے لئے, اور جیسے ہی انہوں نے ہاتھ اٹھایا استاد صاحب نے انہیں گویا اجازت دی اور ان کا مائیک شریف کھول دیا گیا, جیسے ہی ان کے مائیک شریف کو اجازت ملی تو ایک نہایت عجیب و غریب سی دھن بجنے لگی, پہلے تو اسے یقین نہ آیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے لیکن جب تھوڑا مزید غوروفکر کیا تو علم ہوا کہ یہ سائرن مطلوبہ سوال پوچھنے والے بھائی کے وائی فائی کی نہایت تیز رفتاری(کچھوے صاحب کی رفتار جس سے تیز ہو) کے سبب ہوا ہے۔
یہاں پر یہ بتانا میں نہیں بھول سکتی کہ جب آن لائن کلاسز کی خبر موصول ہوئی تو تمام بھی بہنیں خاص طور پر پر کلاس کی کچھ باتونی بہنیں بہت پریشان ہوئیں کہ اب ہم کلاس کی طرح باتیں کیسے کریں گے اور جس طرح ہم کلاس میں باتیں کیا کرتے تھے اور ہماری بھن بھن سے پوری کلاس مستفید ہوتی تھی, ابھی یہ سب اس ہی فکر ہے میں مبتلا تھیں کہ اچانک اس نے اپنا واٹس ایپ آن کیا تو یہ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی کہ اس کی تمام دین کی ساتھیوں نے اس رسم کو دل و جان سے ادا کرنے کی ٹھان لی ہے- طوفان آئے یا زلزلہ, آن لائن کلاس ہو یا آف لائن وہ اس رسم کو قطعاً نہیں توڑ سکتیں-
بس پھر کیا تھا پیچھے سے آئسکریم بیچنے والے بھائی دل سوز اور نہایت پسندیدہ بلکہ یوں کہیے کہ جس آواز کا بچوں کو شدت سے انتظار ہوتا ہے جو کہ یونیورسٹی میں سننے کو شاز و نادر ہی کہیں ملتی ہے۔
(Tuuuununu tuuununu tunnnn nuuununn)
ہو یا چھولے بیچنے والے بھائی کی چھولے لے لو تازہ گرم چھولے لے لو, یا کسی بھائی کے نہایت تیز رفتار انٹرنیٹ کے باعث بجنے والا سائرن ہو, یہ سب ہی اس واٹس ایپ گروپ پر تفصیل سے ایک دوسرے تک چسکے اور مزے لے لے کر پہنچایا گیا-
اب تو صورتحال یہ تھی کہ پہلے تو صرف دو یا تین بہنیں ہیں کلاس میں بھن بھن بھن کیا کرتی تھیں لیکن اب تو تقریبا پوری ہی کلاس کی بہنیں ایک جگہ پر لطف اندوز ہورہی تھیں۔
ان میں سے بعض طلباء پریشانی کا شکار تھے کیونکہ وہ دستک دے کر اور اجازت لے کر کلاس کے اندر تو جا چکے تھے لیکن ایک اور قدم اٹھانے سے علم نہ ہونے کے باعث قاصر رہے اور پوری ہی کلاس انہوں نے بغیر کچھ سنے اور دیکھے صرف اپنی موجودگی کا احساس کرتے اور کراتے ہوئے خاموشی سے گزار دی..!
معذرت کے ساتھ پر ان کے لیے وہ کلاس گونگی کلاس ثابت ہوئی۔
بس ایک قدم کی بلکہ ایک touch کی دوری پر تھے وہ معصوم حضرات۔
ابھی یہ سب چل ہی رہا تھا کہ اچانک سے جیسے ہی اس نے واٹس ایپ گروپ کو چھوڑ کر کلاس میں جانے کا ارادہ کیا آواز تو آ رہی تھی لیکن اس نے سوچا کیوں نہ دوبارہ سے دیکھ لیا جائے کہ کون کون تشریف لایا ہے ابھی وہ اسی سوچ میں گئی تھی کہ جیسے ہی وہ کلاس میں گئی تو دیکھ کر بالکل حیران نہ ہوئی کہ ایک اور کیک اس کا منتظر ہے ہوا یہ تھا کہ جیسے ہی وہ کلاس میں گئی تو اسے ایک نوٹیفیکیشن موصول ہوا جو منہ چڑانے والے اندازہ میں کہہ رہا تھا کہ میٹنگ ختم ہو چکی ہے گویا آپ کو کلاس سے باہر نکال دیا گیا ہے اسے یہ دیکھ کر بالکل حیرت نہ ہوئی کیونکہ وہ جانتی تھی (یہ تو ہوگا)۔
پھر وہ دوبارہ واٹس ایپ گروپ میں گئی اور دوبارہ سے ان کی باتیں شروع ہوئیں کیا ہوا اور ایک کیوں ہوا؟ اچانک سے ایک بہن کا میسج موصول ہوا کہ آجائیں سر نے سب کو دوبارہ بلا لیا ہے وہ دوبارہ تقریباً بھاگتی ہوئی اپنی کلاس میں پہنچی تو دیکھا کہ سر دوبارہ آچکے ہیں اور سر کے الفاظ تھے کہ میں نے اب ایک اعلان کرنا ہے اعلان کیا تھا گویا خوشی کا ایک پٹارا تھا جو سر نے کھولا تھا اور سر نے کہا تھا کہ اب آپ کی حاضری کا وقت ہے بالآخر بہت انتظار کے بعد وہ وقت آن پہنچا,
تھا جن کا انتظار وہ لمحات آگئے-
جس مقصد کے لیے یونیورسٹی جایا جاتا تھا اور جس مقصد کے لئے آن لائن کلاس میں آیا گیا وہ مقصد اور مقصدِ موجودگی اب اپنے پائہ تکمیل کو پہنچنے لگا تھا اور یہ وقت تھا ان کی حاضری کا ایک کلاس مکمل ہوئی تو اگلی کلاس کے انتظار میں وہ سب پھر سے واٹس ایپ گروپ پر آ چکی تھیں اس دوسری کلاس میں بہت سے لوگوں نے ناشتہ مکمل کیا جبکہ اس نے صرف ایک چائے پر ہی اکتفا کیا۔
اب جو کلاس شروع ہوئی تو اس کلاس کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں شروع ہوگئی ہوں۔
پندرہ سے بیس منٹ تو وہ آپس میں اس ہی مسئلہ کو سلجھاتی رہیں کہ کلاس شروع ہوگئی ہے یا نہیں, ہوگئی ہے یا نہیں۔
بالآخر 20 منٹ بعد کلاس مکمل طور پر شروع کی گئی اور جس کا پتہ بھی کافی مختلف تھا وہ کلاس کافی بہتر رہی اور انکی استاذہ نے تصوف کا ایک موضوع پڑھایا تف ہے اس کی وقت کی پابندی پر کہ اس تیسری کلاس میں بھی جو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پانچ منٹ دیر سے پہنچی۔
اور ان پانچ منٹ میں اس کا تعارفِ موضوع نکل گیا اب جو اس نے پورا لیکچر لیا تو وہ اس ہی کشمکش میں رہی کہ بس اب موضوع کا نام لیا جائے گا اور اب میں لیکچر کو سمجھوں گی- اسی کشمکش اور انتظار کی کیفیت میں اس نے ایک لائن تیسری کلاس میں پہلے دن آخرکار اپنی ڈائری میں نوٹ کر ہی لی آخرکار۔ اس نے جب یہ دیکھا کہ اس کی استاذہ پوچھ رہی ہیں طلبہ سے کہ کیا آپ کو میری آواز آرہی ہے, میری آواز آرہی ہے, آواز آنے اور جانے میں ہی وہ کلاس ابھی پوری مکمل ہونے ہی لگی تھی کہ اس نے بھی ایک سوال کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور اس نے پوچھا کہ برائے مہربانی کوئی مجھے موضوع کا نام بتا دیں میں دیر سے آئی تھی پھر اس کے ساتھیوں نے اس کا بہت ساتھ دیا اور اسے بتایا گیا کہ آج کا موضوع اخلاقیات ہے اچانک سے اساتذہ کی آواز آئی کہ کوئی سوال ہو تو…
اور اس کوئی سوال ہو تو, کے فوراً بعد ہی ان کی میٹنگ ختم ہوگئی اور ان سب کو گویا کہہ دیا گیا کہ آپ کی آج کی محفل برخواست ہوچکی ہے, آپ سب اپنے اپنے گھروں میں جو کہ پہلے سے ہی براجمان تھے, اب آپ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو سکتے ہیں۔
تو یہ تھی اس کے پورے دن کی مختصر کہانی۔
اور ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ایک مرحلہ آیا اور وہ تھا آن لائن کلاسز کی ایپلیکیشن کے استعمال کا طریقہ۔
جو اس ہی نے حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ سوچا کہ کیوں نہ لوگوں کا وقت بچایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ یہ ہے اس کا صحیح استعمال اور نہایت ہی آسان استعمال ہے برائے مہربانی ان چند اقدامات پر عمل کریں اور وقت پر کلاس میں موجودگی کا احساس بھی دلائیں اور آپ ہر لیکچر سے مستفید بھی ہوں۔
اللہ ہم سب کو نفع بخش علم عطا فرمائیں۔
خلاصۂ کلام:
اب چونکہ یہ کوئی سبق تو ہے نہیں کہ جس کا خلاصۂ کلام لکھا جائے ہاں البتہ ہر چیز کے مثبت پہلو ضرور ہوتے ہیں اور آن لائن کلاس سسٹم کے مثبت بہت سے پہلو ہیں سب سے پہلے تو یہ کہ اس نے بہت سی مشکلات کو حل کردیا جو بہت سے طلباء کو یونیورسٹی جانے اور وہاں کے حالات سے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اللہ نے اس سسٹم کے ذریعے انہیں نجات دلوائی, دوسرا اہم نقطہ جو کہ یہاں لکھنا میں بھول نہیں سکتی اور وہ یہ ہے کہ اب کم از کم حاضری تو %100 ہوگی۔ اچھی بات یہ ہے کہ جو طلباء کچھ حالات کی وجہ سے کلاس نہیں لے سکتے وہ اگر بعد میں ان لیں تو ان کی بھی حاضری لگا دی جائے گی اور لیکچر بھی سن سکتے ہیں۔
آن لائن سسٹم نے نہایت آسانی کردی کہ آپ گھر بیٹھے تعلیم حاصل کیجیے اور ان شاءاللہ ایک دن گھر بیٹھے ہی ہماری ڈگری بھی ہمیں بھجوادی جائے گی۔
ان شاءاللہ
امید پر دنیا قائم و دائم۔
ایک اور مثبت پہلو اس کا یہ ہے کہ جو لوگ کسی مجبوری کے تحت یہ طبیعت کی ناسازی کی باعث بہت اہم کلاسز چھوڑ دیا کرتے تھے اب ان کی کلاس ضائع نہیں ہوگی اور وہ اس کلاس میں شامل ہوکر کسی طریقے سے اس لیکچر کو اٹینڈ کر سکتے ہیں یا بعد میں وہ اٹینڈ کر سکتے ہی۔ چوتھا مثبت اس کا پہلو یہ ہے کہ آن لائن کلاسز نے ہمیں دوبارہ سے ایک جگہ کر دیا اور ایک بار پھر ہم دوبارہ سے بالکل اس ہی طرح جس طرح ہم یونیورسٹی میں باتیں کیا کرتے تھے اور مزے کیا کرتے تھے بالکل اسی طریقہ سے اس نے ہمیں ایک بار پوری کلاس میں جمع کیا اور ہم نے بہت بہت بہت وقت بعد ایک ساتھ بہت سے یادگار لمحات گزارے۔
اوریہ نہایت یادگار دن گزرا بالکل اس ہی طرح جس طرح یونیورسٹی کا پہلا دن نہایت یادگار ہوتا ہے, بس اس ہی لیے سوچا کیوں نہ اسے قلم بند کر کے محفوظ کرلیا جائے۔
تو یہ تھے کچھ مثبت اس کے پہلو اور ہر چیز کے منفی اور مثبت پہلو ہوتے ہیں تو کچھ منفی بھی ہوں گے لیکن ہم منفی بات نہیں کریں گے۔ اللہ تعالی ہم سب کو مثبت سوچنے کی اور مثبت رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اساتذہ کو جو محنت کر رہے ہیں اور انتہائی محنتی طلباء انہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب کو علم نافع عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنے علم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
اللہ ہم سب کے حامی و ناصر ہو اور اللہ تعالی ہم سب کو خالص کرنے اور ہمارے ایمان کو تقویت عطا فرمائے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ہو آمین.
امید پر دنیا قائم و دائم۔
میری کہانی میری زبانی۔
 بریرہ خان
#BlessedMuslimaah💞

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے