پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی کا بل

پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی کا بل

مذہبی جبری تبدیلی کی روک تھام کے نام پر پاکستان میں ایک بل بنایاگیاہے ۔ جسے پڑھ کرمعلوم ہوتا ہے کہ اگرخدانخواستہ اس بل کوقانون بنادیاگیا تو اسلام قبول کرنے پرپاکستان میں پابندی لگ جائے گی اوراسلام کی تبلیغ کرنے والے مجرم ٹھہریں گے ۔ اگراس بل کوقانون بناکر لاگوکیاجاتاہے توایک توکوئی بھی ۸۱ سال سے کم عمراسلام قبول نہیں کرسکے گا دوسرا اٹھارہ سال سے بڑا کوئی بھی شخص آسانی سے اسلام قبول نہیں کرسکے گاکہ اس کے لیے کچھ ایسی سخت شرائط لگادی گئی ہیں کہ اسلام قبول کرناناممکن نہیں تومشکل ضرورہوجائے گا ۔

علامہ اشرف آصف جلالی نے قبول اسلام سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ اگرکوئی بچہ پانچ سال کاہے دس سال کاہے ۵۱ سال کاہے وہ اسلام قبول کرناچاہتاہے ۔ توہمارے ملک میں یہ قانون بنایاجارہاہے کہ والدین اس کے جوہندوہیں ،سکھ ہیں یاکرسچن ہیں ان کوحق ہے کہ اپنے بچے کوروک دیں ۔ اگرشراب پیتاہے تونہیں روک سکتے، زناکرتاہے تونہیں روک سکتے ۔ اگراسلام قبول کرتاہے توپھراس کوروک سکتے ہیں ۔ اور۸۱ سال کے بعدبھی باقاعدہ ایسا موقع دیاجائے گاکہ وہ اپنے بچے کوواپس لاناچاہتے ہیں تواسے مجبورکرکے اپنے مذہب پرلے آئیں ۔ جس سٹیٹ نے اسلام کوتحفظ دیناتھا اس کے اندراسلام غریب الوطن ہے ۔

سینئر تجزیہ نگارانصارعباسی لکھتے ہیں کہ بل کے مطابق کوئی بھی غیرمسلم جوبچہ نہیں ہے (۸۱ سال سے زائدعمروالاشخص) اوردوسرے مذہب میں تبدیل ہونے کے قابل اورآمادہ ہے اس علاقہ کے ایڈیشنل سیشن جج سے تبدیلیء مذہب کے سر ٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے گا جہاں عام طورپرغیرمسلم کافررہتاہے یا اپناکاروبارکرتاہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج مذہب کی تبدیلی کے لیے درخواست موصول ہونے کے سات دن کے اندرانٹرویو کی تاریخ مقررکرے گا ۔ فراہم کردہ تاریخ پر فرد، ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش ہوگا ۔ جواس بات کویقینی بنائے گا کہ مذہب کی تبدیلی کسی دباءو کے تحت نہیں اورنہ ہی کسی دھوکہ دہی یاغلط بیانی کی وجہ سے ہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج غیرمسلم کی درخواست پراس شخص کے مذہبی سکالرزسے ملاقات کا انتظام کرے گا جومذہب وہ تبدیل کرناچاہتاہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج مذاہب کاتقابلی مطالعہ کرنے اورایڈیشنل سیشن جج کے دفترواپس آنے کے لیے غیرمسلم کو۰۹دن کاوقت دے سکتاہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج اس بات کویقینی بنانے کے بعد کہ یہ شرائط پوری ہوجائیں ،مذہب کی تبدیلی کاسر ٹیفیکیٹ جاری کرے گا ۔ جبری مذہب کی تبدیلی میں ملوث فرد کوکم ازکم پانچ سال اورزیادہ سے زیادہ دس سال تک قیدکی سزا اور جرمانہ ہوگا ۔ مذہب کی تبدیلی کے لیے مجرمانہ قوت کا استعمال اس شخص کے خاندان ،عزیز،برادری یاجائیدادکے خلاف ہوسکتاہے ۔ جوشخص (شادی) انجام دیتاہے ۔ کرتاہے، ہدایت دیتاہے یاکسی بھی طرح سے شادی میں سہولت فراہم کرتاہے ،اس بات کاعلم رکھتے ہوئے کہ یاتودونوں فریق جبری تبدیلی کے شکارہیں وہ کم ازکم تین سال قیدیاتفصیل کے مجرم ہوں گے ۔ اس میں کوئی بھی شخص شامل ہوگا جس نے شادی کی تقریب کے لیے لاجسٹک سپورٹ اورکوئی دوسری خدمات وغیرہ فراہم ہوں گی ۔ کسی بھی شخص کے بارے میں یہ نہیں سمجھاجائے گا جب تک کہ وہ شخص بالغ (۸۱سال یا اس سے بڑا) نہ ہو جائے ۔ جوبچہ بلوغت کی عمرکوپہنچنے سے پہلے اپنے مذہب کوتبدیل کرنے کادعویٰ کرتاہے اس کامذہب کاتبدیل نہیں سمجھاجائے گا اورنہ ہی اس کے خلاف اس قسم کے دعویٰ کرنے پرکوئی کارروائی کی جائے گی ۔ اگرچہ کچھ بھی ان حالات پرقابل اطلاق نہ ہوگا جہاں بچے کے والدین یاسرپرست خاندان کامذہب تبدیل کرنے کافیصلہ کریں ۔ عدالت کی جانب سے جبری تبدیلی کامعاملہ نوے دن کی مدت کے اندرنمٹادیاجائے گا اورعدالت کسی مقدمے کی سماعت کے دوران دو سے زیادہ التواء نہیں دے گی ۔ جن میں سے ایک التواء التواء کے خواہاں شخص کے اخراجات کی ادائیگی پرہوگا ۔ اس بل کے تحت کسی جرم کی سزایابریت کے خلاف اپیل متعلقہ ہائی کورٹ کے سامنے اس تاریخ سے دس دن کے اندر پیش کی جائے گی جس دن کورٹ آف سیشن کے منظورکردہ حکم کی کاپی اپیل کنندہ کوفراہم کی جائے گی ۔ جبری تبدیلی کے حوالے سے تحقیقات پو،لیس سپرنٹنڈنٹ کے درجے سے نیچے کاکوئی بھی پولیس افسرنہیں کرے گا ۔

تحریک عظمت آل واصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیراہتمام ہنگامی اجلاس تحریک کے سرپرست اعلیٰ سجادہ نشین پیرسیدمنور حسین جماعتی کی زیر صدارت ہوا ۔ جس میں انسدادجبری تبدیلی مذہب بل کویکسرمستردکرتے ہوئے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہاگیا کہ یہ بل مکمل طورپرغیراسلامی، غیرآئینی اوربنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورشریعت سے متصادم ہے ۔ اٹھارہ سال کی عمرسے پہلے اسلام لانے پرپابندی عائدنہیں کی جاسکتی ۔ پیرسیدمنورحسین جماعتی کاکہناتھا کہ اس بل کے ذریعے غیرملکی آقاءوں کوخوش کرنامقصود ہے ۔ تمام غیرآئینی ہتھکنڈے اوراسلام سے متصادم قانون سازی نہیں ہونے دیں گے ۔ حکومت ایسی قانون سازی سے بازرہے ۔ مفتی محمداقبال چشتی نے کہا کہ پاکستان میں اسلام قبول کرنے کوجرم بنانے کے لیے قانون سازی پرکام شرمناک عمل ہے ۔ ڈاکٹرمفتی عبدالکریم، مفتی محمدفیصل عباس جماعتی اورمفتی محمدضیاء الحسنین صدیقی نے کہا کہ خداراحکمران ہوش کے ناخن لیں ۔

پیراجمل رضاقادری کہتے ہیں کہ حضرت مولاعلی شیرخدانے چھوٹی عمر میں کلمہ پڑھ لیاتھا ۔ آپ کس طرح کے قانون لے کرآرہے ہیں ۔ آپ توریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں ۔ آپ کوتوچاہیے تھا کہ ایسے قانون لے کے آتے کہ زیادہ سے زیادہ کافرمسلمان کیسے ہوسکتے ہیں اورآپ کیا اپنے منہ پرسیاہی ملنے جا رہے ہیں ۔ سوچیں ، غورکریں یہ جووطن اسلام ہے اس کے توہرفردکومبلغ اسلام بنانا آپ کی ذمہ داری ہونی چاہیے تھی ۔ اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے ۔ اتناہی ابھرے گاجتناکہ دبادوگے ۔ یہ دین غلبے کے لیے دنیا میں آیاہے ۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے مذہب کی جبری تبدیلی سے متعلق وفاقی وزارت انسانی حقوق کے مسودہ بل میں شریعت سے متصادم متعدد شقوں کی موجودگی کا انکشاف کیاہے ۔ وزارت حقوق انسانی نے اقلیتوں کی جانب سے مذہب کی جبری تبدیلی سے بچانے کے لیے دی گئی سفارشات کوتحفظ اقلیت بل ۱۲۰۲ء میں شامل کیاہے ۔ اس سلسلے میں تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی کے اراکین، لال چند، جے پرکاش اوررمیش کمارنے مذہب کی جبری تبدیلی روکنے کے لیے قانون سازی کامطالبہ کررکھاتھا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس مسودہ قانون کی مختلف شقوں کاجائزہ لیاہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے مسودہ قانون کی شقوں پرایک عبوری رپورٹ مرتب کی ہے ۔ کونسل نے عمرکی حداورتبدیلی مذہب کے طریقہ کارپراعتراض واردکیے ہیں ۔ مسودہ میں کہاگیاہے کہ ۸۱ برس سے کم عمرکاکوئی فرداسلام قبول نہیں کرسکتا، بل میں کہاگیاہے کہ مذہب تبدیل کرنے کے خواہش مندفردکے لیے مخصوص طریقہ کاردرج ہے ۔ قانونی شرائط کے تحت کسی شخص کوکسی دوسرے مذہب میں داخل ہونے کے لیے عدالت سے سر ٹیفکیٹ حاصل کرناہوگا ۔ اس سے پہلے تبدیلی مذہب کے آرزومندکومذہبی کتابیں پڑھنا اورعلماء کرام کے ساتھ نشست کرناہوگی ۔ تبدیلی مذہب کی درخواست دینے کے ۰۹ روزبعدتبدیلی مذہب کاسر ٹیفکیٹ جاری کیاجائے گا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کاکہناہے کہ جب کوئی شخص اسلام قبول کرتاہے تواس پرفوری طورپرشرعی احکام نافذ ہوجاتے ہیں اوراس سلسلے میں کوئی تاخیرمناسب نہیں ۔ اسی طرح ریاست کاعقیدہ یہ ہے کہ پاکستان میں مذہب کی جبری تبدیلی کی اجازت نہیں لیکن اس مجوزہ بل سے تاثرملتاہے کہ پاکستان میں جبری طورپرمذہب تبدیل کرایاجاتاہے جس کی روک تھام کے لیے یہ قانون بنانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ مذہب کی جبری تبدیلی پاکستان کے قانون کے تحت پہلے سے جرم ہے ۔ تبدیلی مذہب کی پرنورمثالیں خود عہدرسالت مآب میں موجود ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ نے سات سال کی عمر میں اسلام قبول کیا ۔ ان کی طرح بہت سے عرب خاندان تھے جن کے کم سن بچوں نے بھی آزادانہ طورپراسلام قبول کیا ۔ پاکستان کاقیام ایک جدیدمسلم سماج کی تشکیل کی غرض سے عمل میں آیا ۔ پاکستان کے آئین کے آغاز میں یاددہانی موجودہے کہ مملکت خدادادپاکستان میں کوئی ایساقانون اورضابطہ تشکیل نہیں دیاجاسکتا جوقرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف ہو ۔ اس سلسلے میں چند چیلنج جدیدبین الاقوامی نظام کی وجہ سے کی وجہ سے سامنے آئے ۔ امریکی سرکردگی میں دنیاکومہذب بنانے کے لیے انسانی حقوق کاجوبین الاقوامی چارٹرترتیب پایا اس میں فردکی ذاتی آزادی کواس قدراہمیت دی گئی کہ سماج کی اجتماعیت اورریاست کے مفادت تک قربان کردیے گئے ۔ مغربی معاشرے ہم جنس پرستی اوربرہنہ رہنے کاحق اسی بین الاقوامی چارٹرکے تحت تسلیم کررہے ہیں ۔ مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے نظام کے مقابل اسلام اورکمیونزم نے اپنی حیثیت منوائی ۔ کمیونزم میں فردکچھ نہیں ،سب کچھ ریاست ہے ۔ اسلام نے فردکوجان کے تحفظ،حق زندگی، حق اظہاررائے کے ساتھ مذہبی آزادی بھی دی ۔ بھارت میں انتہا پسندہندو مسلمانوں اوردیگراقلیتی برادریوں کے ساتھ جس جبرکامظاہرہ کررہے ہیں اس کی مذمت پوری دنیاکررہی ہے ۔ لیکن بھارت اس طرح کے قوانین کو اہمیت نہیں دے رہا ۔ ہمارامسئلہ یہ ہے کہ حکومتوں میں ایسے گروہوں کا اثرورسوخ پراسرارطورپربڑھ جاتاہے جواقلیتوں کے تحفظ کے نام پرسماجی انتشارکی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں ۔ پاکستان کاسماج دینی اقدارپرایمان رکھنے والوں پرمشتمل ہے ۔ گنتی کے لوگ بیرونی فنڈزاورمفادات کی خاطربے سروپامعاملات کوسنگین بناکرپیش کرتے ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان پاکستان کوریاست مدینہ بنانے کی تکرارکرتے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے قانون سازی کے لیے جو مسودات تیارہوتے ہیں ان میں وقفے وقفے سے شرانگیزموادشامل کردیاجاتاہے جس سے بڑے پیمانے پراحتجاج ہڑتال اورہنگاموں کاخطرہ ہوتاہے ۔ اسلامی تعلیمات جبرکی نفی کرتی ہیں ۔ اسی لیے ایسے معاملات کی گرفت ہوتی ہے ۔ اب کسی خاص گروہ یالابی کے دباءو میں قرآن وسنت کے منافی شقوں پرمشتمل مسودہ قانون تیارکرنے کامقصداس کے سواکیاہوسکتاہے کہ بیرونی محاذپرکامیابیاں سمیٹتے پاکستان کوداخلی انتشارکی نذرکردیاجائے ۔

اگراس مجوزہ بل کوقانون بناکرنافذ کیاجاتاہے تواسے علماء کرام اورمبلغین اسلام کے خلاف بھی استعمال کیاجاسکتاہے ۔ چندغیرمسلم کی آل رسول، کسی عالم دین کے پاس جائیں گے اوراپنی مرضی سے اسلام قبول کرلیں گے بعد میں شورمچادیں گے کہ ہ میں جبری مذہب تبدیل کرایاگیاہے ۔ بل کے مطابق مذہب کی تبلیغ کرنے والامجرم ہے ۔ اگرکوئی غیرمسلم کسی عالم دین کاخطاب سن کریاکوئی اسلامی مضمون ،کتاب پڑھ کرمسلمان ہونے کی خواہش کا اظہارکرتاہے بعد میں وہ اپنا ارادہ تبدیل کرلیتاہے توتقریرکرنے والا اورکتاب،مضمون لکھنے والامجرم ٹھہریں گے ۔ مذہب تبدیل کرنے کے خواہش مندشخص سے اس کے مذہبی سکالرسے ملاقات کرانے کامقصداس کے سوا اورکیاہوسکتاہے کہ اسے اسلام قبول کرنے سے روکاجائے ۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ میں درست ہی کہاگیاہے کہ اس بل کوتیارکرنے کامقصد پاکستان کوداخلی انتشارکاشکارکرنے کے سوا اورکوئی نہیں ہو سکتا ۔ پاکستان میں کبھی توہین رسالت کے قانون پراعتراض ہوتا ہے اوراس کے غلط استعمال کاپروپیگنڈہ کیاجاتاہے اوراس قانون میں ترمیم کرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں ۔ کبھی اراکین اسمبلی کے حلف نامہ میں تبدیلی کی کوشش کرکے مسلمانوں کے ختم نبوت کے عقیدہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ کبھی کسی بھی غیر مسلم کے اسلام قبول کرنے پرمذہب کی جبری تبدیلی کاشورمچایاجاتاہے ۔ کبھی پاکستان میں اقلیتوں کے غیرمحفوظ ہونے اوران پرظلم ہونے کاپروپیگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ یہ سب پروپیگنڈے اورسب کوششیں پاکستان کوداخلی انتشارکی نذرکرنے کے لیے ہیں ۔ ریاست مدینہ کے داعی وزیراعظم عمران خان کومذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام(پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی) کے بل کے پراسس کوفوری طورپررکوادیناچاہیے ۔ ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے کرملک کو مسلسل انتشارکی نذرکرنے کی کوشش کرنے والوں کوبے نقاب کریں اورایسے سازشیوں کوایسی عبرت ناک سزائیں دلائیں کہ آج کے بعد کوئی بھی ایساکرنے کاسوچ بھی نہ سکے ۔ ملک میں امن وسلامتی کے قیام کے لیے ایساکرناضروری ہے ۔

پاکستان میں تمام مسالک کے علماء کرام کوصدرمملکت جناب عارف علوی سے ملاقات کرکے انہیں مذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام کے بل کی سنگینی سے آگاہ کرناچاہیے اورانہیں ملک کواس سنگین صورت حال سے بچانے کے لیے ان کامنصبی، مذہبی، قومی اوراخلاقی کرداراداکرنے کی درخواست کرنی چاہیے ۔

 

محمدصدیق پرہار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے