جب ذرا ہوش میں آؤں گا چلا جاؤں گا

جب ذرا ہوش میں آؤں گا چلا جاؤں گا
زیست کا بوجھ اُٹھاؤں گا چلا جاؤں گا
ابھی بیٹھا ہُوں کمیں گاہ میں دشمن کے لیے
آخری تیر چلاؤں گا چلا جاؤں گا
زندگی سے ابھی تک نیم تعارف ہے مرا
کُچھ رہ و رسم بڑھاؤں گا چلا جاؤں گا
میری پہچان مری روح کے ہونے سے ہے
جسم اوقات میں لاؤں گا چلا جاؤں گا
مَیں جو مٹّی کے لبادے میں چھپایا گیا ہُوں
پل کے پل خاک اڑاؤں گا چلا جاؤں گا
ایک دن تیز ہواؤں میں دھُواں بن کے مَیں
کسی کے ہاتھ نہ آؤں گا چلا جاؤں گا
ایک زنجیر سے باندھی گئی ہر روح سمیرؔ
اپنے وعدے کو نبھاؤں گا چلا جاؤں گا
حالِ دل تُجھ کو بتاؤں گا چلا جاؤں گا
حالِ دل تُجھ کو بتاؤں گا چلا جاؤں گا
ایک دو شعر سناؤں گا چلا جاؤں گا
بزمِ جانان کو آدابِ غزل کیسے ہَو
اپنا دیوان اُٹھاؤں گا چلا جاؤں گا
مَیں تری قبر پہ روز آ کے چراغوں کی جگہ
روز اک خط کو جلاؤں گا چلا جاؤں گا
جاتے جاتے بھی کئی بار پکاروں گا تُجھے
آخری آس مٹاؤں گا چلا جاؤں گا
لاکھ دعویٰ کرے تَو چاہتوں کا لیکن مَیں
تیری باتوں میں نہ آؤں گا چلا جاؤں گا
جانے والے پلٹ آئیں یہ ضروری تَو نہیں
اب کے واپس نہیں آؤں گا ، چلا جاؤں گا
کسی دیوانے کی یہ بات نہیں ، جانِ سمیرؔ
کہہ رہا ہُوں ، چلا جاؤں گا ، چلا جاؤں گا
سمیرؔ شمس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے