جب تلک میری زندگی باقی

جب تلک میری زندگی باقی
بے کسی باقی، بے بسی باقی
ہے اگر تھوڑی آگہی باقی
آگہی کے عذاب بھی باقی
ٹوٹ جائے نہ دیکھ بندِ غم
میری آنکھوں میں ہے نمی باقی
لٹ گیا کاروانِ رنگ و بُو
ہیں تقاضے ترے ابھی باقی
بُجھ گئیں چاہتوں کی قَندیلیں
شامِ غم کی ہے برہمی باقی
میری آنکھوں میں اک سمندر ہے
اور مقدّر کی تشنگی باقی
آبلے پڑ گئے ہیں پیروں میں
پر ہے سارا سفر ابھی باقی
زردی چھائی ہوئی ہے چہرے پر
حُسن باقی نہ دل کشی باقی
کون آیا تھا اس طرف ناہید
ہے فضاؤں میں نغمگی باقی
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے