جب ترا دامنِ تر یاد آیا

جب ترا دامنِ تر یاد آیا
اپنی آہوں کا اثر یاد آیا
جب بھی صحرا میں بگولا دیکھا
تیرے آنگن کا شجر یاد آیا
شب کے ساتھی تو بہت سارے تھے
اک دیا وقتِ سحر یاد آیا
جس گھڑی شمع کے آنسُو پگھلے
مجھے اک دیدۂ تر یاد آیا
بے بسی کی مجھے دینا تھی مثال
ایک ٹوٹا ہوا پَر یاد آیا
حادثہ بھول چکا تھا سب کو
ناؤ دیکھی تو بھنور یاد آیا
ایک لمحہ تھا فقط خوشیوں کا
وہ بھی با دیدۂ تر یاد آیا
چاند دو بار گھٹا سے نکلا
تُو مجھے بارِ دگر یاد آیا
ایک تو حسن ترا اپنا تھا
اک ترا حسنِ نظر یاد آیا
اپنے گھر کی نہ کبھی یاد آئی
جب بھی آیا ترا گھر یاد آیا
عدیم ہاشمی 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے