جب سے دل میں ترا غم رکھتے ہیں

جب سے دل میں ترا غم رکھتے ہیں
خود سے ہم واسطہ کم رکھتے ہیں
شک نہ کیجے مری خاموشی پر
لوگ سو طرح کے غم رکھتے ہیں
یوں بھی ملتی ہیں وہ نظریں جیسے
اک تعلق سا بہم رکھتے ہیں
کرتے پھرتے ہیں تمہاری باتیں
یوں بھی ہم اپنا بھرم رکھتے ہیں
ہم یہ کیجے نہ بھروسہ باقیؔ
ہم خیال اپنا بھی کم رکھتے ہیں
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے