جَب سے تیرے پیار کے دیوانے بنے ہیں

 
جَب سے تیرے پیار کے دیوانے بنے ہیں
جَہاں بھر کی نظروں کے ہم نشانے بنے ہیں
جِس طائر کو سکوں نہ ملے اُسی کیلئے
ہم راتوں کے پہروں کے آشیانے بنے ہیں
وفا کی ہے وفا کے اصولوں پہ آج بھی ہم
مخلوقات کیلئے مثل ِ زمانے بنے ہیں
ہم سادہ دِل جو اُن پہ اُمیدیں لگا کر
خودی پھر غموں کے گھرانے بنے ہیں
خیال یار میں ڈوب کر اے!! دِل ہم تو
کیا خوب کہ اپنوں میں بھی بیگانے بنے ہیں
جب سے تیری یادوں کی اسیر میں ہوں
میرے ہر خواب بھی اب سوہانے بنے ہیں
لب پہ کوئی نام نہ وفا کی کرن ہے
ہم ایسے تیرے عشق کے نشانے بنے ہیں
اے زندگی !! تیری شمع ِعلمی کو اُجالنے کیلئے
”حامیؔ“ ہم اُسی شمع کے پروانے بنے ہیں

نعمان حیدر حامی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے