جب پڑے آنکھ, ہاتھ, کنکر پر

جب پڑے آنکھ, ہاتھ, کنکر پر
فاختہ چیختی ہے کیکر پر
تیرے سینے میں ایک پتھر تھا
اور وہ پتھر لگا مرے سر پر
دل کی گلیوں میں ڈھونڈنا مجھکو
جب تجھے میں نہیں ملوں گھر پر
سبزگی پائمال کر دے گا
بدگمانی کا رنگ منظر پر
صبح تک خواب سے الجھتی ہے
مضطرب نیند شب کے بستر پر
سن رہا ہے سماعتوں کا ہجوم
شور و شر کی پکار منبر پر
منزلوں کی نظر جمی ہوئی ہے
ایک مدت سے راہ و رہبر پر
دیکھ لو پڑھ کے سورہ ء کوثر
یہ عیاں کب ہوئی ہے ابتر پر
آخری سانس لینے والی ہے
برتری ظلم ڈھاتی , کمتر پر
شور کرتی ہیں سر نگوں شاخیں
تیر کھینچا گیا ہے تیتر پر
ہجر کی داستاں سنائے گا
پھول مرجھایا تیرے کالر پر
سب سے پہلے شہید ہوتا ہے
نام لکھا ہو جس کا آخر پر
شعر کہنا محال ہے , یوں ہے
بھوک حملہ کیا ہے شاعر پر
آپ تو کلمہ گو ہو , ڈر کیسا
ظلم ڈھاتا نہیں وہ کافر پر
کہہ رہا تھا معاف کرنا خدا
ہونٹ رکھے ہوئے میں پتھر پر
ان چراغوں کو ڈھونڈتا ہوں میں
بار ہیں جو ہوا کے لشکر پر
ریشمی سانس تھک گئ ارشاد
ہو نہ پائی کڑھائی کھدّر پر
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے