جب کسی درد کو سہلاتے ہیں

جب کسی درد کو سہلاتے ہیں
کچھ نئے زخم نکل آتے ہیں
زیست وہ کربِ مسلسل ہے کہ ہم
سانس لینے سے بھی گھبراتے ہیں
بے وجہ اتنا بھی مت سوچا کر
وسوسے دل میں اتر جاتے ہیں
کیسا ماحول کہاں کی خوشبو
پھول کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں
ہم اُسے سوچنے بیٹھیں تو سعید
فاصلے خود ہی سمٹ جاتے ہیں
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے