جب بیاں کرو گے تم، ہم بیاں میں نکلیں گے

جب بیاں کرو گے تم، ہم بیاں میں نکلیں گے
ہم ہی داستاں بن کر، داستاں میں نکلیں گے
عشق ہو، محبت ہو ، پیار ہو کہ چاہت ہو
ہم تو ہر سمندر کے درمیاں میں نکلیں گے
رات کا اندھیرا ہی رات میں نہیں ہوتا
چاند اور ستارے بھی آسماں میں نکلیں گے
بولیاں زمانے کی مختلف تو ہوتی ہیں
لفظ پیار کے لیکن ہر زباں میں نکلیں گے
خاک کا سمندر بھی اک عجب سمندر ہے
اس جہاں میں ڈوبیں گے، اس جہاں میں نکلیں گے
صرف سبز پتے ہی پیڑ پر نہیں ہوتے
کچھ نہ کچھ پرندے بھی آشیاں میں نکلیں گے
قصۂ سخن کوئی جب عدیم آئے گا
ہم بھی واقعہ بن کر داستاں میں نکلیں گے
عدیم ہاشمی 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے