جب بھی اِس راہ سے وہ رشکِ بُتاں گزرے گا

جب بھی اِس راہ سے وہ رشکِ بُتاں گزرے گا
دِل میں ٹھہرے گا یقیں اور گماں گزرے گا

ہائے وہ وقت کہ جب تم نہ میسّر ہو گے
ہائے وہ وقت گزارے سے کہاں گزرے گا

اُس طرف منہ نہیں کرتا کوئی ڈرتا لیکن
ہم جو گزرے تو اُدھر سے بھی جہاں گزرے گا

بات یہ اُس کے گماں میں بھی کہاں ہو گی بھلا
ایک سر، یاں سے سرِ نوکِ سناں گزرے گا

ایک انبوہِ تغیّر پسِ دیوارِ اَنا
صورتِ حال بتاتی ہے میاں! گزرے گا

ہم گزر جائیں گے جب تیری کمک پہنچے گی
ہم گزر جائیں گے جب سیلِ زیاں گزرے گا

ہم ہیں خاموش تو خاموش ہی رہنے دیجے
ہم جو بولے تو سماعت پہ گراں گزرے گا

شبیر نازش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے