جب اشک سرِ چشمِ گنہگار کھلے گا

جب اشک سرِ چشمِ گنہگار کھلے گا
بخشش کو درِ سیدِ ابرار کھلے گا
قرآن کو مدحت کے تناظر میں تو پڑھیے
ہر لفظ میں گنجینئہ اسرار کھلے گا
اندھوں کو بھلا نور کی تفہیم ہو کیونکر
مٹی پہ کہاں عرش کا معیار کھلے گا
اک نعت بھی نکلے گی مری فردِ عمل سے
محشر میں اگر کارِ سیہ کار کھلے گا
قوسین سے او ادنیٰ پہ جا پہنچیں گے آقا
او ادنیٰ کی منزل پہ پہنچ جائیں گے مہماں
جبریل پہ جب عقدہء رفتار کھلے گا
دربارِ رسالت ہے خطا کاروں کی خاطر
سو بار بھی آئیں گے تو سو بار کھلے گا
توحید کے نعرے سے تو کھل جائیں گے دشمن
پر نعرہء سرکار سے غدار کھلے گا
صابر رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے