جاتے ہوئے نہیں رہا پھر بھی ہمارے دھیان میں

جاتے ہوئے نہیں رہا پھر بھی ہمارے دھیان میں
دیکھی بھی ہم نے مچھلیاں شیشے کے مرتبان میں
پہلے بھی اپنی جھولیاں جھاڑ کر اٹھ گئے تھے ہم
ایسی ہی ایک رات تھی ایسی ہی داستان میں
ساتھ ضعیف باپ کے لگ گئیں کام کاج پر
گہنے چھپا کے لڑکیاں دادی کے پان دان میں
گھنٹی بجا کے بھاگتے بچوں کو تھوڑی علم ہے
رہتا نہیں ہے کوئی بھی آدمی اس مکان میں
یعنی مجال کچھ نہیں ذروں کے اجتماع کی
یعنی سبھی مہہ‌ و نجوم ایک ہی خاندان میں
اتنا بھی مختلف نہیں میرا تمہارا تجربہ
جیسے کہ تم مقیم ہو اور کسی جہان میں
اظہر فراغ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے