جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں

جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں
عشق تو وہ ہے جس میں ناموجود میسر آ جاتے ہیں
جانے کیا باتیں کرتی ہیں دن بھر آپس میں دیواریں
دروازے پر قفل لگا کر ہم تو دفتر آ جاتے ہیں
کام مکمل کرنے سے بھی شام مکمل کب ہوتی ہے
ایک پرندہ رہ جاتا ہے باقی سب گھر آ جاتے ہیں
اپنے دل میں گیند چھپا کر ان میں شامل ہو جاتا ہوں
ڈھونڈتے ڈھونڈتے سارے بچے میرے اندر آ جاتے ہیں
میم محبت پڑھتے پڑھتے لکھتے لکھتے کاف کہانی
بیٹھے بیٹھے اس مکتب میں خاک برابر آ جاتے ہیں
روز نکل جاتے ہیں خالی گھر سے خالی دل کو لے کر
اور اپنی خالی تربت پر پھول سجا کر آ جاتے ہیں
خاک میں انگلی پھیرتے رہنا نقش بنانا وحشت لکھنا
ان وقتوں کے چند نشاں اب بھی کوزوں پر آ جاتے ہیں
نام کسی کا رٹتے رٹتے ایک گرہ سی پڑ جاتی ہے
جن کا کوئی نام نہیں وہ لوگ زباں پر آ جاتے ہیں
پھر بستر سے اٹھنے کی بھی مہلت کب ملتی ہے عادلؔ
نیند میں آتی ہیں آوازیں خواب میں لشکر آ جاتے ہیں
ذوالفقار عادل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے