جاں سے عزیز ہے جسے حرمت رسولﷺ کی

جاں سے عزیز ہے جسے حرمت رسول کی
اس کو صدائیں دے گی شفاعت رسول کی
ایمان اس کا پوچھنے آئے ہو ! خیر ہے
وہ ذات جس نے کی ہے کفالت رسول کی
یعنی حسینُ مِنّی سے ثابت یہی ہوا
کرب و بلا, حسین , شہادت رسول کی
اپنی جگہ بٹھائے جو بیٹی کو ایک باپ
دراصل وہ نبھاتا ہے سنت رسول کی
قرآن میں ہے ذکر یہ اجرت نہیں مگر
تبلیغ کا ہے اجر قرابت رسول کی
شمس الضحی کہا کبھی والیل کہہ دیا
آیات کا سراپا ہے صورت رسول کی
حجت دلیل کچھ نہیں درکار عشق میں
کافی ہے عاصیوں کو محبت رسول کی
پا بوسی ء حضور کا موقع ملے اسے
غارِ حرا کے دل میں تھی حسرت رسول کی
ارشاد تُو خدا کی اطاعت سمجھ اسے
جو کہہ رہا خدا ہے اطاعت رسول کی
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے