جال پھینکا تھا کسی نے اور کھنچتے آ گئے

جال پھینکا تھا کسی نے اور کھنچتے آ گئے
ورنہ اپنا وقت کب تھا ہم تو پہلے آ گئے
چھوڑنے والا مجھے اب دیکھ کر حیران ہے
زرد ہوتی ٹہنیوں پر پھول کیسے آ گئے
فائدے میں رہ گئے دنیا کو پیچھے چھوڑ کر
تیری چوکھٹ تک ہمیں لے کر ستارے آ گئے
صبح نیلے آسماں والے نے بھر دی رنگ سے
کھڑکیاں کھولیں مرے گھر میں پرندے آگئے
یہ بہت ہے کوئی تو واقف ہوا ہے نور سے
میرے حصے نا سہی تم اس کے حصے آ گئے
اک عجب سے روشنی کمرے میں گھر کرنے لگی
اس نے جب بولا کہ یارا ہم اکیلے آ گئے
آگ جیسے خوش بدن کو چھو رہے تھے موج میں
نیند جھوٹی ہو گی لیکن خواب سچے آ گئے
اپنا کیا بن پائے گا ہم تو کرائے دار ہیں
گھر بنانے والے ہی جب گھر کے نیچے آگئے
میلی چادر تان کر خود کو اکیلا کر لیا
جب اجالا چھو کے دھرتی پر اندھیرے آ گئے
دو گھروں کے بیچ میں اب رابطہ اتنا ہی تھا
اک کما کر بھیجتا تھا اک کو پیسے آ گئے
وہ کہاں ہے جس کے آنے کی سنی خوش خبریاں
جادوئی آواز تھی ہم جس کے پیچھے آ گئے
ہم نے مانگا تھا اسے تجدید خود کو ہار کر
پھر ہوئی نظر ِ کرم اور دن سنہرے آگئے
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے