اظہار و قبول حق

اظہار و قبول حق
وارثِ عدل پیمبر عمر ابن الخطاب
ہیچ تھی جن کے لئے منزلت تاج و سریر
مجمع عام میں لوگوں سے انہوں نے یہ کہا
مَہر باندھو نہ زیادہ کہ ہے یہ بھی تبذیر
جس قدر تم کو ہو مقدور وہیں تک باندھو
حکم یہ عام ہے سب کو امرا ہوں کہ فقیر
ایک بڑھیا نے وہیں ٹوک کے فورا یہ کہا
تجھ کو کیا حق ہے جو کرتا ہے ایسی تقریر
صاف قرآن میں قنطار کا لفظ آیا ہے
تجھ کو کیا حق ہے کہ اس لفظ کی کر دے تغییر
لاکھ تک بھی ہو تو کہہ سکتے ہیں اس کو قنطار
تھا یہ اک وزن کہ اس وزن کی یہ ہے تعبیر
سرنگوں ہو کے کہا حضرت فاروق نے آہ
میں نہ تھا اس سے جو واقف تو یہ میری تقصیر
شبلی نعمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے