اتنے چاہت بھرے غصے سے لڑا کرتا تھا

اتنے چاہت بھرے غصے سے لڑا کرتا تھا
لڑتے لڑتے مجھے بانہوں میں بھرا کرتا تھا

اس نے پوچھا نہ کبھی کون ہے دروازے پر
میری دستک سے مجھے جان لیا کرتا تھا

ایسا لگتا کہ مرے ساتھ زمانہ ہے تمام
میرے شانے پہ وہ جب ہاتھ رکھا کرتا تھا

پھر اُسے علم ہوا پیڑ ہوا دیتے ہیں
وہ مری سانس سے ہر سانس لیا کرتا تھا

اک وہی ہاتھ ہی پہنچا ہے گریبان تلک
مری انگلی کے سہارے جو چلا کرتا تھا

آشنا آج میں اُس شخص کے زندان میں ہوں
جو مرے نام پہ چڑیوں کو رِہا کرتا تھا

احمد آشنا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے