استعارہ

اب میسر کی تقدیر کا فیصلہ
میں کروں؟
رات بھر آسماں پر تکونیں بنانے
سے تم کو لگا
میں ستاروں پہ قسمت مٹانے
یا لکھنے میں مصروف ہوں؟
مُٹھیاں بند کرنے کا مطلب
یہ ہرگِز نہیں ہے
کہ مجھکو فلک سے کسی استعارے
کی پاداش میں
بٹنے والے چمکتے بکھرتے
حسین جگنووٗں کی طرح
اپنے حصے کے کُچھ
طے ہوئے مرحلوں
کی کہانی میں بچھڑے ہوئے
اُن فسردہ مگر آگہی سے منور
فسانوں کے کرداروں کو قید کرنے کا
حق مل گیا
ہاں اگر میں یہ دعویٰ کروں
کہ مجھےشام ڈھلتے ہی
چھت پر لگے اپنے موہوم بستر
پہ لیٹے ہوئے
شب کے قانون کو توڑنے
کے لیے جاگنا ہے
تو یہ جان لو
میں حقیقت کے پردوں کے
پیچھے کھڑے ایک
الہام کو
اپنے ان دیکھے خوابوں کی دہلیز پر
روکنے کے لیے
جن ستاروں میں تاویل و تعبیر
کے راز پنہاں ہیں
ان کو مسلسل کسی استعارے
کے جھانسے میں لاکر
کہ دیکھو مجھے اب
یہ ممکن نہیں لگ رہا کہ میں
ایک الہام کو جو حقیقت
کو درپیش ہے
کوئی تاویل دوں
اس لیے گر مری آنکھ
لگنے لگے
مجھکو سونے نہ دو

عمران سیفی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے