اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا

اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا
زمانے کو نئی کھڑکی سے جھانکا
وہ پورا چاند تھا لیکن ہمیشہ
گلی میں ادھ کھلی کھڑکی سے جھانکا
میں پہلی مرتبہ نشے میں آیا
کوئی جب دوسری کھڑکی سے جھانکا
امر ہونے کی خواہش مر گئی تھی
جب اس نے دائمی کھڑکی سے جھانکا
میں سبزے پر چلا تھا ننگے پاؤں
سحر دم شبنمی کھڑکی سے جھانکا
مجھے بھاتے ہیں لمحے اختتامی
میں پہلے آخری کھڑکی سے جھانکا
سکوت توڑنے کا اہتمام کرنا چاہیئے
کبھی کبھار خود سے بھی کلام کرنا چاہیئے
ادب میں جھکنا چاہیئے سلام کرنا چاہیئے
خرد تجھے جنون کو امام کرنا چاہیئے
الجھ گئے ہیں سارے تار اب مرے خدا تجھے
طویل داستاں کا اختتام کرنا چاہیئے
تمام لوگ نفرتوں کے زہر میں بجھے ہوئے
محبتوں کے سلسلوں کو عام کرنا چاہیئے
مرے لہو تو چشم اور اشک سے گریز کر
تجھے رگوں کے درمیاں خرام کرنا چاہیئے
احمد خیال 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے