اِسی ندامت سے اُس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں

اِسی ندامت سے اُس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں
کہ ہم چھڑی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے ہیں
جہاں سے جانے کی جلدی کس کو ہے، تم بتاؤ
یہ سوٹ کیسوں میں کپڑے کس نے رکھے ہوئے ہیں
وہ خود پرندوں کا دانہ لینے گیا ہوا ہے
اور اس کے بیٹے شکار کرنے گئے ہوئے ہیں
کرا تو لوں گا میں علاقہ خالی لڑ جھگڑ کر
مگر جو اس نے دلوں پہ قبضے کئے ہوئے ہیں
میں کیسے باور کراؤں جا کر یہ روشنی کو
کہ ان چراغوں پہ میرے پیسے لگے ہوئے ہیں
تمہارے دل میں کھلی دکانوں سے لگ رہا ہے
یہ گھر یہاں پر بہت پرانے بنے ہوئے ہیں
تم اِن کو چاہو تو چھوڑ سکتے ہو راستے میں
یہ لوگ ویسے بھی زندگی سے کٹے ہوئے ہیں
ضیا مذکور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے