عشرتِ بادۂ گلفام اٹھا لائے ہیں

عشرتِ بادۂ گلفام اٹھا لائے ہیں
دوست کچھ غم بھی سرِ شام اٹھا لائے ہیں
شاعری ہم تری زینت کیلئے دکھ اپنے
دامنِ دل سے سرِ بام اٹھا لائے ہیں
اور کچھ طعنہ و دشنام کی صورت نہ رہی
یار محفل میں ترا نام اٹھا لائے ہیں
ہم کہ اب گھر میں بھی رہتے ہیں سرائے کی طرح
صبح دم نکلے تھے اور شام اٹھا لائے ہیں
خواب مہکے ہیں سحر دم کہ صبا کے جھونکے
خوشبوئے یارِ گل اندام اٹھا لائے ہیں
شعبدہ باز مرے غم کی تسلی کو سعید
پھر کسی جشن کا پیغام اٹھا لائے ہیں
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے