Ishq Ny Husn

غزلِ

حفیظ جالندھری

عِشق نے حُسن کی بیداد پہ رونا چاہا
تُخمِ احساسِ وفا سنگ میں بونا چاہا

آنے والے کسی طوُفان کا رونا رو کر
نا خُدا نے مجھے ساحِل پہ ڈبونا چاہا

سنگ دِل کیوں نہ کہیں بُتکدے والے مجھ کو
میں نے پتّھر کا پرِستار نہ ہونا چاہا

حضرتِ شیخ نہ سمجھے مِرے دِل کی قیمت
لے کے تسبِیح کے رِشتے میں پُرونا چاہا

کوئی مذکوُر نہ تھا غیر کا، لیکن تم نے
باتوں باتوں میں یہ نشتر بھی چُبھونا چاہا

دیدۂ تر سے بھی سرزَد ہُوا اِک جُرمِ عظِیم
حشْر میں نامۂ اعمال کو دھونا چاہا

مرتے مرتے بھی توقّع رہی دِلداری کی
رکھ کے سر زانوُئے تقدِیر پہ سونا چاہا

جنسِ شُہرت بہت ارزاں تھی، مگر میں نے حفیظ
دولتِ درد کو بیکار نہ کھونا چاہا

ابوالاثر حفیظ جالندھری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے