عشق کیا ہے، ہوس ہے کیا، اے دوست!

عشق کیا ہے، ہوس ہے کیا، اے دوست!
پاس آ کر مکالمہ اے دوست!
اس لیے میرے دل کو بھاتا ہے
ہے ترا روپ عشق سا اے دوست!
میں تجھے سوچتا کیوں رہتا ہوں؟
کبھی یہ بات سوچنا اے دوست!
میں تری نیند جاگتا رہتا
تو، مرے خواب دیکھتا اے دوست!
وصل کے سرمئی علاقے میں
کبھی ملنے کی سوچنا اے دوست!
تجھ کو کتنا عجیب لگتا ہے؟
یہ مرا درد تھوکنا اے دوست!
جو ہُوا، سو ہُوا، خفا نہ ہو
تو بُرا وقت بھول جا اے دوست!
تو مرا حال جان جائے گا
پیٹر صحرا کے دیکھنا اے دوست!
مبشر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے