عشق کینہ ور کی آگ

عشق کینہ ور کی آگ

وہ میرے پاس آیا تو سخت تکلیف میں تھا۔ تین لڑکے اس کو پکڑکر لائے تھے۔ انتہائی خوبصورت لڑکا تھا۔ نزاکت، اسم با مسمیٰ۔ چہرہ اتنا ملائم کہ نگاہیں پھسل پھسل جاتی تھیں۔ موٹی موٹی آنکھیں جن میں خدا نے اپنے ہاتھ سے سرمہ لگایا تھا۔ رخساروں پر سبزہ کا آغاز ہوا ہی تھا۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ بال موچنے سے صاف کیے ہوئے تھے۔ ٹھوڑی پر ایک گودنا گودا ہوا۔ شوخ رنگت کا عطریات میں بسا ہوا مکلف لباس پہنے ہوئے تھا۔ اوضاع و اطوار زنانہ سے تھے۔

خون میں لتھڑی ہوئی ریشمی شلوار، خصیوں کی تھیلی کے دائیں طرف لمبا سا زخم تھا۔ لگتا تھا کہ تیز دھار آلے سے خود چیرا دیا گیا تھا۔ اس کے پیچھے ہی شراب کے نشے میں دھت امو بھی ہسپتال میں آگیا۔ امو بچپن سے میرا دوست تھا۔ ہم کالج میں بھی اکٹھے ہی پڑھتے تھے۔ وہ کالج کی کبڈی کی ٹیم کا کپتان تھا۔ بی اے کرنے کے بعد وہ اسی بنیاد پر پولیس میں بھرتی ہو گیا۔

دو سال پہلے اس کی بیوی تیسرے بچے کو جنم دیتے ہوئے فوت ہو گئی تھی۔ حال میں ہی اس نے ایک نو خیز دوشیزہ سے دوسری شادی رچائی تھی۔

مجھے اس کے جنسی میلان کا بہت اچھی طرح علم تھا۔ کامیاب شادی شدہ زندگی گزارنے کے باوجود اس کی زیادہ رغبت امرد پرستی کی طرف تھی۔

امو کے آتے ہی لڑکے اس کے ساتھ جھگڑنے لگے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تمہاری وجہ سے اس نے اپنے آپ کو زخمی کیا۔ دوبدو لڑائی شروع ہو گئی۔ وہ تینوں لڑکوں پر بھاری تھا۔ لڑکے بھاگ گئے۔

امو نزاکت کا سر اپنی گود میں رکھ کر بولا۔ ”مری نازو! میں نے تمہیں منع بھی کیا تھا۔ تم نے یہ کیوں کیا؟ “

نزاکت کراہتے ہوے کہنے لگا، ”یہ سب میرے کسی کام کے نہیں۔ میں انہیں کاٹ پھینکنا چاہتا ہوں۔ “

” نازو! تم مجھے ایسے ہی پسند ہو۔ آئندہ ایسی حرکت مت کرنا۔ “

اگلے دن وہ مرہم پٹی کروانے آیا تو اس کی ماں بھی ساتھ تھی۔ شکایت بھرے لہجے میں کہنے لگی، ”ڈاکٹر صاحب، امو پہلوان نے میرے بیٹے کو تباہ کر دیا ہے۔ خود ایک کے بعد دوسری بیوی کر لی ہے اور اسے غلط راستے پر لگا دیا ہے۔ اچھا بھلا لڑکا تھا۔ پتا نہیں کیا ہوا؟ پچھلے کچھ سالوں سے ایسے کام شروع کر دیے ہیں۔ رات دن اموکے گھر میں ہی گھسا رہتا ہے۔ میں تو تعویذ جھاڑے سب کرو اچکی ہوں۔ نہ رمل جفر پیش گئے اورنہ ہی تختے قرعے کام آئے ہیں۔ میرا بیٹا اپنا سب کچھ تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ “

ایک دن میں نے امو سے پو چھا، ”یار تمہاری پہلی بیوی بھی بہت پیاری تھی اور یہ تو ابھی نازک سی کلی ہے تم اس کو چھوڑ کر اس زنانہ سے لڑکے نزاکت کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہو؟ ٹھیک ہے، لڑکے اپنی جوانی کے آغاز میں ایسے کام کرتے ہیں لیکن بعد میں وہ جنس مخالف کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ تم بھی اب یہ خرد سالی کے کام چھوڑو، اغلام بازی ترک کرو اور اپنے بیوی بچوں پر دھیان دو۔ آخرتمہیں اس میں ملتا کیا ہے؟ تم نے یہ کیا فضول شوق پال رکھا ہے؟ “

کہنے لگا، ”ڈاکٹر صاحب! عظیم اور خوبصورت روح صرف مردانہ صورت میں ہی مل سکتی ہے۔ معیار حسن و جمال در حقیقت حسن مردانہ ہی ہے۔ “

”اگر مردانہ حسن اتنا ہی پسند ہے تو اس کی مردانگی کیوں ختم کر رہے ہو؟ “ میں نے پوچھا تو کہنے لگا۔

”مردانہ حسن میں مادہ ذو جنسیت کی ملاوٹ در اصل سونے پہ سہاگہ ہے۔ یونانی بت دنیا میں سب سے زیادہ خوشنما گردانے جاتے ہیں کیونکہ ان میں زنانہ حسن کے ساتھ مردانہ حسن صورت اور تناسب اعضأ کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ میری نازو کبھی دھوپ ہے اور کبھی ابر خوش نما۔ میں تو مزاج یار کے تلون پر اپنی زندگی بھی قربان کر سکتا ہوں۔ آپ کو پتا ہی ہے، مبارک شاہ خلجی نے مفعول خسرو کے بارے میں کہاتھاکہ یک موئے سر تیرا بہتر از پادشاہی ہندوستان۔ “

کہنے لگا، ”قدیم یونانی صنم اکبر زیوس بھی ایسی ہی خصوصیات کا حامل تھا۔ اس کے اندر سے تمام مخلوقات نے جنم لیا۔ وہی مرد تھا اور وہی عورت۔ یعنی دوشیزہ ازلی۔

یورینوس دیوتا نے اپنے ہم جنس سے ہی اختلاط کیا توان کے ملاپ سے حسن و عشق کی دیوی افرودیتہ پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب یہ دیوتائی جذبہ ہے۔ امرد پرستی صرف آزاد شہریوں اور بانکے شہسواروں کا شوق تھا۔ غلاموں کو اس کی اجازت نہیں تھی۔ سقراط نے اس فعل کو مستحسن قرار دیا تھا۔ ”

”لیکن پھر دوسری شادی کیوں کی تھی؟ “ میں نے غصے سے پوچھا۔

”میں راضی نہیں تھا لیکن میری ماں کہتی تھی کہ بچے کون پالے گا۔ اور پھر میں اس کے حقوق بھی پورے کرتا ہوں۔ اگر چہ ارسطو نے تو لوگوں کو مشورہ دیا تھا کہ اپنی بیویوں کو چھوڑ کر استلذاذ بالمثل کیا کرو۔ “

”تم نہیں سمجھ سکتے۔ “ میں لاجوب ہو گیا۔

پھر پتا چلا کہ نزاکت غائب ہو گیا ہے۔ امو پوچھتے ہوئے میرے پاس بھی آیا۔ کہنے لگا، ”ایک دن میرے گھر میں آیا تھا اور چلا نے لگا کہ وہ اپریشن کروانے جا رہا ہے۔ میں نے بہت منع کیا لیکن پتا نہیں کہاں چلا گیا ہے؟ “ میں نے اسے بتا یا کہ ایسے اپریشن قصور میں ایک ڈاکٹر کیا کرتا تھا لیکن اب حج کرنے کے بعد اس نے بھی توبہ کر لی ہے تم وہاں جا کرپتا کرلو۔ وہ چلا گیا۔

اگلے دن اس کا ایک برقی پیغام ملا، ”میری نازو ایک انجان اتائی کے ہتھے چڑھ گئی۔ اس نے اپریشن کے بعدخون نہ رک سکا اور وہ مر گئی۔ میں اس کی لاش اٹھا کر لے آیا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب، خدا حا فظ۔ “

کچھ دنوں کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ بندھی ہوئیں دونوں لاشیں ایک نہر سے برآمد ہوئیں۔

کافی دنوں کے بعد نزاکت کی ماں میرے پاس آئی۔ میں نے افسوس کا اظہار کیا تو کہنے لگی، ”ڈاکٹر صاحب، میں نے آپ کو کہا تھا کہ امو پہلوان نے میرے بیٹے کو تباہ کر دیا ہے۔ وہ اچھا بھلا لڑکا تھا۔ لیکن امو اپنی دولت کے بل بوتے پر اس کی زندگی لوٹ کر لے گیا۔ اس کے بعد میرا بیٹا کہتا تھا، “ اسے امو بیاہ کر لے گیا تو میں نے اپنی جوانی کا کیا کرنا ہے۔ اب میں امو کو تباہ کر دوں گا۔ ”

یہ سب سن کر میں ہکا بکا رہ گیا اور مجھے یاد آیا کہ وہ مبارک شا ہ خلجی کی مثال دے رہا تھا لیکن یہ بھول گیا تھا کہ اسی رات خسرو نے بادشاہ کو قتل کر کے دلی کے تخت اور اس کے حرم پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے