عشق کے آخری امکان سے باہر ہو جا

شعیب بن عزیز صاحب کی زمین میں ایک غزل ، آج ان کے جنم دن کے موقع پر چھوٹا سا تحفہ۔۔۔

عشق کے آخری امکان سے باہر ہو جا
شعر گوئی سے سخن دان سے باہر ہو جا
روح نے جسم اتارا تھا مجھے کہتے ہوئے
چھوڑ کر ذات کے سامان سے باہر ہوجا
راستے کون ترے سہل کرے گا پگلی!
دور رہبر سے نگہبان سے باہر ہو جا
ایسے بدبخت کہ مٹی تو کُجا آگ جنھیں
کہنے لگتی ہے کہ شمشان سے باہر ہو جا
جسم گھُل جائے نہ اشکوں کی نمی سے اب کے
ہجر کے سرد نمکدان سے باہر ہو جا
پھر کسی وہم کو وجدان سمجھ بیٹھے گی
عشق جنگل سے ذرا دھیان سے باہر ہو جا
یہ ٹھکانا تو نہیں شازیہ اکبر تیرا
جادو نگری سے پرستان سے باہر ہو جا
شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے