عشّاق بہت ہیں، ترے بیمار بہت ہیں

عشّاق بہت ہیں، ترے بیمار بہت ہیں
تجھ حسنِ دل آرام کے حق دار بہت ہیں
اے سنگ صفت! آ کے سرِ بام ذرا دیکھ
اِک ہم ہی نہیں، تیرے طلب گار بہت ہیں
.بے چین کیے رکھتی ہے ہر آن یہ دل کو
کم بخت محبت کے بھی آزار بہت ہیں
مٹّی کے کھلونے ہیں ترے ہاتھ میں ہم لوگ
اور گِ ر کے بکھر جانے کے آثار بہت ہیں
کس سمت چلیں، کون سی دہلیز پہ بیٹھیں
اس شہر میں کچھ بھی ہو، رِ یا کار بہت ہیں
ڈھونڈو تو کوئی سچ کا پیمبر نہیں ملتا
دیکھو تو یہاں صاحبِ کردار بہت ہیں
لکھیں تو کوئی مصرعۂ تر لکھ نہیں پاتے
اور غالبِ خستہ کے طرف دار بہت ہیں
اے ربِ ہُنر چشمِ عنایات اِ دھر بھی
ہر چند کہ ہم تیرے گناہ گار بہت ہیں
خاور اُسے پا لینے میں کھو دینے کا ڈر ہے
اندیشہ و حسرت کے میاں خار بہت ہیں
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے