اسے بکھرے ہوئے لوگوں سے رغبت ہے

اسے بکھرے ہوئے لوگوں سے رغبت ہے
اسے چارہ گری میں چین ملتا ہے
وہ جب آغاز میں اپنی مسیحائی دکھاتی ہے
تو اسکی مہرباں نظروں کی حدت سے
پگھل کر ہم شکستہ دل
غم و افسوس کیا اپنی حقیقت بھول جاتے ہیں
اور اس کی پر اثر قربت کا راتوں میں
دل و جاں سے مگن ہو کر
عجب دیوانگی ملتی ہے وحشت بھول جاتے ہیں
ہم اپنی کرچیاں چنتے ہیں آئینے اٹھاتے ہیں
اور اپنے دل کے ہر کونے کو خوابوں سے سجاتے ہیں
اسیرِ آرزو ہو کر
غرض خود کو اکٹھا کر کے اس قابل بناتے ہیں
کہ شاید ہم مسیحا کی نگاہوں میں ٹھہر جائیں
کہ شاید یہ مسیحائی محبت میں بدل جائے
ہمیں کب یاد رہتا ہے
محبت آرزو مندی ۔ ۔ ۔
یہ باتیں ہوش مندی کی
اسے کب راس آتی ہیں
اسے بکھرے ہوئے لوگوں سے رغبت ہے
اسے چارہ گری میں چین ملتا ہے
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے