اس وقت

اس وقت
نیم کے تنے سے کمر ٹیکے کھڑا ہوں
اس کے کڑوے پتوں کی مٹھاس
تیری یاد کے بانکپن جیسی ہے
نیچے گرے پتے
زرد ہو کر کسی سوئے ہوئے شخص کی طرح
اپنے جسم کو خم کئے محو استراحت ہیں
سامنے جامن کے پیڑ پر لگی سفیدی
تیری شادی کے دن کی طرح اداس ہے
چاند اور میرے درمیان
بلڈنگ ، درخت اور خلا ہے
اس لمحے یہ تین چیزیں بالکل ویسی ہی ہیں
جیسے تین بعد تم نے نکاح کی خبر دی تھی
ٹیوب لائٹ کی روشنی میں
میرا سایہ مجھے اجنبی لگ رہا ہے
گیارہ بجے ہاسٹل کی خامشی
قبر کی اندرونی مٹی جیسی خوشبو لئے ہے
دور سے ٹریفک کی گاڑیوں کا آتا شور
میرے اور گرتے پتوں کی کمیونیکیشن میں
مزاحمت پیدا کر رہا ہے
میرے ساتھ سے گزرتی سفید بلی کی ٹانگیں لڑکھڑا رہی ہیں
بلڈنگ کے سامنے لگے سدا بہار پھولوں کا کاسنی رنگ
دھیرے دھیرے کرونا کی دوسری لہر پر مسکرا رہا ہے
میں تمہارے میسج کے انتظار میں
تیز دھار ہوا میں موجود سگنلز تلاش رہا ہوں
اور ٹرین کے پیہوں کی غراہٹ مجھے
پٹڑی کے راستے باڈر کے قریب لے گئی ہے

سمیع اللہ خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے