اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے
آج تک سلگتے ہیں زخم رہگزاروں کے
خلوتوں کے شیدائی خلوتوں میں کھلتے ہیں
ہم سے پوچھ کر دیکھو، راز پردہ داروں کے
گیسوؤں کی چھاؤں میں، دل نواز چہرے ہیں
یا حسیں دھندلکوں میں، پھول ہیں بہاروں کے
پہلے ہنس کے ملتے ہیں، پھر نظر چراتے ہیں
آشنا صفت ہیں لوگ، اجنبی دیاروں کے
ہم نے صرف چاہا ہے ہم نے چھو کے دیکھے ہیں
پیرہن گھٹاؤں کے، جسم برق پاروں کے
شغلِ مے پرستی گو، جشن نامرادی تھا
یوں بھی کٹ گئے کچھ دن تیرے سوگواروں کے
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے