اس شہر میں رسوائی کا سامان بہت ہے

اس شہر میں رسوائی کا سامان بہت ہے
اب چشمِ تماشائی پشیمان بہت ہے
مدت سے جو در پے تھا مرے شیشۂ جاں کے
اب ٹوٹ گیا ہے تو وہ حیران بہت ہے
اب دشت و بیاباں کا سفر کون کرے گا
جب شہر میں تنہائی کا سامان بہت ہے
یہ سوچ کے میں گھر میں چراغاں نہیں کرتا
یہ روشنیِ طبع مری جان بہت ہے
فرقت میں سکوں ہے نہ تجھے قُرب میں آرام
اے دل تری بنیاد میں ہیجان بہت ہے
مشکل ہیں بہت ترکِ محبت کے مراحل
چپ چاپ بچھڑ جانا تو آسان بہت ہے
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے