اس سے پہلے ترے کوچے میں تماشا ہوتا

اس سے پہلے ترے کوچے میں تماشا ہوتا
یہ مناسب تھا مرے واسطے رستہ ہوتا
عمر بھر میری یہ کوشش تجھے جی بھر دیکھوں
تیرے چہرے پہ کھلا رنگ مجھ ایسا ہوتا
میں بہت تیز چلا اپنے کناروں سے پرے
میں اگر دشت نہ ہوتا ترا دریا ہوتا
آگ سگرٹ کو لگاتا میں تری یادوں میں
اور بے چین دھویں میں ترا سایہ ہوتا
بن گیا آئنہ دیوار مری تنہائی کی
ہر طرف میرے لیے تیرا ہی چہرہ ہوتا
جانتا ہوں تجھے ،تُو میری نہیں ہو سکتی
زندگی تو نے مری طرف تو دیکھا ہوتا
تو نے جس خاک سے الفت کو بنایا مولا
اسی مٹی سے مرا جسم تراشا ہوتا
پھول کھلنے سے ذرا پہلے کسی خوشبو سا
ہر طرف تیرے مرے عشق کا چرچا ہوتا
حسیب بشر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے