فروری 5, 2023
Asma Faraz
عاصمہ فراز کی اردو غزل

اس سے ہی چلتی ہے سانسوں کی روانی لوگو
مجھ سے مت چھینو مری آنکھ کا پانی لوگو

پارساٸی کی گواہی تو نہ مانگو اس سے
تنہا بیوہ نے گزاری ہے جوانی لوگو

ہم بیابانوں کے عادی تھے کہیں پر نہ بسے
دشتِ تنہائی میں کی نقل مکانی لوگو

آگہی کرب کے امکان بڑھا دیتی ہے
مت بتاٶ مجھے انجامِ کہانی لوگو

اس کی تصویر کو چپکے سے جلایا میں نے
وہ تھی کم ظرف محبت کی نشانی لوگو

اک نیا خواب میں پلکوں پہ سجاٶں کیسے
دل میں باقی ہے ابھی یاد پرانی لوگو

ہم کہ سادہ رہے جدت میں نہ ڈھالا خود کو
ہم کو آٸے ہی نہیں طَور زمانی لوگو

عاصمہ فراز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے