اس قدر خوابی ء تقدیر نہیں ہو سکتی

اس قدر خوابی ء تقدیر نہیں ہو سکتی
یہ مرے خواب کی تعبیر نہیں ہو سکتی

زندگی ملنے میں کچھ دیر بھی ہو سکتی ہے
موت کے آنے میں تاخیر نہیں ہو سکتی

یوں تو ہر کام سنور جاتا ہے تدبیر کے ساتھ
بخت کے کھیل میں تدبیر نہیں ہو سکتی

جب بھی چاہو مجھے چھوڑ کے جا سکتے ہو
دوستی پاؤں کی زنجیر نہیں ہو سکتی

تو نے بھیجی ہے جو تصویر وہ تصویر ہی ہے
تو جو خود ہے تری تصویر نہیں ہو سکتی

عزت ِ نفس بھی داؤ پہ لگا بیٹھا ہوں
اس سے بڑھ کر تری توقیر نہیں ہو سکتی

جوش کے ساتھ ہے کچھ ہوش بھی لازم صائب
صرف جذبات سے تقریر نہیں ہو سکتی

صدیق صائب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے