اس لیے قریہؑ دل میں مری عزت کم ھے

اس لیے قریہؑ دل میں مری عزت کم ھے
میرے کاسے میں ابھی عجز کی دولت کم ھے
میں ہر اک کام تسلی سے کیا کرتا ھوں
عشق مت سونپئے صاحب مجھے فرصت کم ھے
بانٹ سکتی ھے مرا ہجر اُداسی میری
آج کل مجھ پہ مگر اس کی عنایت کم ھے
مہرباں ہے مرے دل پر تری یادوں کی ہوا
میرے سینے میں گھٹن شہر کی نسبت کم ہے
کر دیا میں نے ہواؤں کے حوالے ورنہ
غم کو خوشبو میں بدلنے کی روایت کم ھے
گرخوشی جیب پہ بھاری ہے تو میں حاضر ہوں
میں ہوں متروک۔زمانہ مری قیمت کم ہے
عشق کرتا ہوں عبادت کے قرینے سے کبیر
اس لیے بھی مرے اس کام کی شہرت کم ہے
کبیر اطہر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے