Is Ki Nazar Mein Sab Thy

اس کی نظر میں سب تھے وہ سب کی نظر میں تھا

اک شخص آئنے کی طرح رہ گزر میں تھا

خود آگہی کے بھید، خدا آگہی کے بھید

کیا کچھ اسی دریچۂ خواب و خبر میں تھا

ٹکرا کے گونجتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی

آواز کی طرح کوئی ہر دم سفر میں تھا

ہم ہیں کہ ہم میں کوئی نہ کوئی ہنر بھی ہے

لیکن وہ با کمال جو ہر اک ہنر میں تھا

دیوار و در سے پھوٹتے رہتے تھے اس کے لفظ

وہ اپنے گھر میں رہتا تھا اور شہر بھر میں تھا

میں روکتا تھا اور اسے جانا تھا ایک دن

آنسو کی طرح کوئی مری چشمِ تر میں تھا

جس طرح چاند آخرِ شب گفتگو کرے

کیا شخص تھا جو عشق کے پچھلے پہر میں تھا

نکل پڑا ہوں کسی عشق کے تعاقب میں

ہر ایک یاد کو خود پر حرام کرتا ہوا

حرم میں اُڑتی ابابیل کی طرح ہوں ، سعود

سکوتِ نیم شبی میں کلام کرتا ہوا

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے