اس کی باتوں سے میں نے پرکھا تھا

اس کی باتوں سے میں نے پرکھا تھا
وہ بھی میری طرح اکیلا تھا

چند جگنو تھے میری مٹھی میں
اور چاروں طرف اندھیرا تھا

پاؤں شل ہو گئے جہاں آ کر
قافلے کو وہیں سے چلنا تھا

وہ جو روتا ہے چاند راتوں میں
اس نے شاید کسی کو چاہا تھا

اپنے ہاتھوں میں لے کے زخمی ہاتھ
میرا ہر درد اس نے بانٹا تھا

دل کے اندر تھی خامشی لیکن
میرے کانوں میں شور برپا تھا

لوگ کہتے ہیں داستانوں میں
وقت گزرا ہوا ہی اچھا تھا

گرچہ شاعر نہیں تھا وہ پھر بھی
میر و غالب , فراز جیسا تھا

منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے