اس عید پہ میں نے سوچا ہے

اس عید پہ میں نے سوچا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو کرنا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو دِکھنا ہے
کچھ الگ سا اب سنورنا ہے
میں نے پوری کیں ہمیشہ ہی
اپنی دولت سے اُمیدیں اپنی
گزاری ہیں پہلے کتنی ہی
نئے کپڑوں میں عیدیں اپنی
مگر اب جو دَورِ وبا آیا
تو مجھے بھی یاد خدا آیا
فکریں جو حد سے بڑھ جائیں
جب قرضے سر پر چڑھ جائیں
جو بھوک اور فکر میں جکڑے ہیں
جن کے تن پر پرانے کپڑے ہیں
ان کی اُمیدیں ہوتی ہیں
خاموش سی عیدیں ہوتی ہیں
مگر اب کے سوچا ہے میں نے
جتنی بھی میری دولت ہے
میرے رب ہی کی بدولت ہے
حقداروں میں دے کر مجھ کو
دُعا ان کی لے کر مجھ کو
سکون سا دل میں بھرنا ہے
اس عید پہ میں نے سوچا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو کرنا ہے!!!
طارق اقبال حاوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے