اردسا

اردسا
وہ سامنے ہے
وجود جس کا بصارتوں کو توانا کر دے
دھنک میں لپٹے فسوں کا پیکر
عجیب وحشت جگا رہا ہے
لپکتی صرصر کا تازیانہ بدن کو شعلہ بنا رہا ہے
سفید پاوں کی انگلیوں میں طلائی چھلے
زمیں کی چوکھٹ سجا رہے ہیں
بدن کے پربت میں پھوٹتے ہیں ہزار چشمے سپردگی کے
ہماری سوکھی ہتھیلیوں پہ لرزتی خواہش کی شوخ سرسوں اگی ہوئی ہے
وہ سامنے ہے
سجا ہوا ہے گلاب سارا
کسّا ہوا ہے شباب سارا
کُھلا ہے پنجرہ کسی پرندے کی آرزو میں
بھڑکتے شعلے سنہری بلبوں کی روشنی سے سِوا ہوئے ہیں
ہماری حسرت کی آگ رقصاں ہماری بانہوں کے دائروں میں
وہ بے نیازی سے آنکھ بھرتی ہے چار سو تو
ہجوم کتنی ہی خواہشوں کا ہمارے سینے پہ سبز شاخیں اُگا رہا ہے
ہر ایک جرعے میں اک صراحی
ہزار نشے انڈیلتی ہے
کسی کی زلفِ دراز شب بھر ہماری وحشت سے کھیلتی ہے
عرفان شہود
مطبوعہ تسطیر میں شامل ایک نظم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے