انتظار

انتظار

ہم نے تم کو چاہا ہے
تم سے پیار کرتے ہیں
تم سے ملنے کی خواہش بار بار کرتے ہیں

منزلیں مسافر ہیں
آرزو ٹھہرتی ہے
زندگی کے میلے میں
جب کبھی اکیلے میں
کچھ چراغ جلتے ہیں
روشنی کے ریلے میں
راستے بھی چلتے ہیں
تم کو پا لیا ہے پر انتظار کرتے ہیں
کل بھی نامکمل تھے آج بھی ادھورے ہیں
درد کی کہانی میں
ساری زندگانی میں
خواہشیں ہزاروںہیں
دل کے شاخساروں میں آرزو پنپتی ہے
زلف کے اندھیرے میں
جسم کے سویرے میں
انتظار ہوتا ہے
انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پر ہم پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

اجنبی حویلی ہے
اجنبی حویلی میں
ادھ کھلا دریچہ ہے
ادھ کھلے دریچے میں چاند جیسا چہرہ ہے
چاند جیسے چہرے پر نیم باز آنکھیں ہیں
نیم باز آنکھوں میں خواہشوں کا ڈیرا ہے
خواہشوں کا ڈیرا ہے نیند کا بسیرا ہے
اور ایک سپنا ہے
خواب زار کے در پر انتظار لکھا ہے
پیار پیار لکھا ہے
اس کی سرخ آنکھوں میں انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پر ہم پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

آبشار پر کوئی اجنبی اکیلا ہے
سوچیے تو کون اس کی آرزو سے کھیلا ہے
آسماں پہ شب کا اک آخری ستارا ہے

رات سونے والی ہے
صبح ہونے والی ہے
اور زندگی کا وہ آخری سہارا ہے
انتظار کا سورج ڈوبنے ہی والا ہے
اور وہ یوں بیٹھا ہے
جیسے کوئی اترے گا آرزو کے ساحل پر
آدمی زمانے میں جو بھی پیار کرتا ہے
انتظار کرتا ہے
انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پر ہم پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

اجنبی حویلی ہے
اجنبی حویلی میں
ایک ماں اکیلی ہے
اور اس حویلی کا صحن بھی کشادہ ہے
زندگی سے بیٹے دکھ اسے زیادہ ہے
درد تو بلا کا ہے
صبر انتہا کا ہے
ضبط کا تقاضا ہے
آنکھ میں نہیں آنسو
ہونٹ پر دعائیں ہیں
جانے کون آئے گا
ان اداس آنکھوں میں خواب رنگ لائے گا
اس کی مردہ آنکھوں میں انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پر ہم پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

جسم و جاں کے مندر میں
دیویاں سلامت ہیں
ناگ راج بیٹھے ہیں دودھ کی سبیلوں پر
اک پجاری آئے گا
جستجو کی آواز یں
سن رہا ہوں مدت سے
آرزو کا سناٹا
کب چٹخ کے ٹوٹے گا
آب دار آنکھوں سے خواب کوئی پھوٹے گا
خواب خواب ہوتا ہے خواب پہ بھروسا کیا
زندگی حقیقت ہے
اور اس حقیقت کو خواب کی ضرورت ہے
کون خواب دیکھے گا
کون اس کی تعبیریں اب بتانے آئے گا
منتظر زمانہ ہے جانے کس نے آنا ہے
انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پہ پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

ایک چھوٹا بچہ ہے
اس کے نرم ہاتھوں میں
سخت بھاری پتھر ہیں
زخم زخم پیروں میں جسم کا پسینہ ہیں
سامنے وہ زینہ ہے
جس پر اس نے جانا ہے
اور اس مشقت کا شام تک تسلسل ہے
ظلم یہ مشقت کا اجر اتنا تھوڑا ہے
جس نے ایک بچے کا خواب زار توڑا ہے
سوچ کی زمینوں پر
ایک بوڑھیماں اس کی ایک چھوٹا بھائی ہے
اک بہن اپاہج ہے
سوچو تو دو ہاتھوں کے چار پیٹ ہوتے ہیں
باوجود محنت کے کیوں وہ بھوکے سوتے ہیں
آسماں سے جانے کب ان کا رزق اترے گا
وعدہ تو کیا ہے پر وعدہ کب وفا ہو گا
بھوک پیاس کی شدت وہ بھی جانتا ہو گا
بھوک جب ستاتی ہے
پیٹ کی منڈیروں پر
زرد زرد آہوں کے کچھ نشاں ابھرتے ہیں
بھوک جب ستاتی ہے
دن کو سونے والے بھی رات کو سنورتے ہیں
جسم کی صلیبوں سے پیرہن اترتے ہیں
وہ تو خیر عورت ہے اس کا اس زمانے نے کام ہی یہ سمجھا ہے
اس سے کیا گلہ کرنا
اس کی اپنی مجبوری
خواہشوں کے اژدر ہیں شاخ جسم سے لپٹے
پیٹ کی بدولت ہیں
لوگ جو زمانے میں باوقار ہوتے ہیں
ان میںلوگ ایسے بھی کچھ شمار ہوتے ہیں
کار زار ہستی میں
خواہشوں کی منڈی میں
سب کو بیچ دیتے ہیں
جب پڑے ضرورت تو رب کو بیچ دیتے ہیں
ظلم کے افق سے کب آفتاب ابھرے گا
جانے اس زمانے میں کون عیسی اترے گا
انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پر ہم پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

ہر کوئی یہاں اس کا انتظار کرتا ہے
جس سے پیار کرتا ہے
اور اس حوالے سے اپنی زندگی ہم ہیں
اپنی ہر خوشی ہم ہیں
اپنی زندگانی میں مستقل کمی ہم ہیں
نام اس کا لیتے وجہ شاعری ہم ہیں
آدمی سے دنیا ہے اور آدمی ہم ہے
آئنہ سا حیراں ہوں آئنہ مقابل ہے
آئنے کی آنکھوں میں عکس ایک اترا ہے
راز اپنی خلقت کا اب سمجھ میں آیا ہے
مجھ کو کیوں بنایا تھا سب سمجھ میں آیا ہے
اک طویل قصہ ہے مختصر کہانی میں
خواہشیں سمندر ہیں ایک بوند پانی میں
انتظار اپنا تھا انتظار اپنا ہے
آدمی حقیقت میں خود سے پیار کرتا ہے
اور اپنی خواہش پر جاں نثار کرتا ہے
ہر کوئی یہاں اپنا انتظار کرتا ہے

سید عدید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے