انتظار – ساعت – خوش میں کھڑی

انتظار – ساعت – خوش میں کھڑی ،،،، خوش ہورہی ہے
وہ ابھی گزرا نہیں ہے اور گلی خوش ہورہی ہے
عشق – حیلہ جو تو بندر کا تماشا کررہا تھا
لڑکی پاگل ہے جو کھڑکی میں کھڑی خوش ہورہی ہے
میں نے اپنے پیر کاٹے تھے نجانے کس نشے میں
باغ میں ہر پیڑ کی خوش قامتی ،،،، خوش ہورہی ہے
پہلے جیسے خوبرو تم بھی نظر آتے نہیں ہو
یہ بھی مت سمجھو کہ مجھ سے شاعری خوش ہورہی ہے
ایک کوندے نے اچانک مجھ پہ روشن کر دیا ہے
مجھ سے مل کر کون سی نیلم پری ،،،، خوش ہورہی ہے
قہقہے نے صاف بتلایا کہ تو حاضر نہیں تھا
اور میں سمجھا تھا تری موجودگی خوش ہورہی ہے
اس طرف بھی رش ہے جسموں کی گلابی روشنی کا
رونق – تالاب تو اس پار بھی خوش ہورہی ہے
عاطف کمال رانا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے