انتظار حسین کی افسانہ نگاری:ایک جائزہ

انتظار حسین کی افسانہ نگاری:ایک جائزہ

انتظار حسین کی جائے پیدائش، ڈبائی ،ضلع بلند شہر ہے ۔انتظارحسین نے تعلیم میرٹھ میں حاصل کی ۔اور تقسیم کے بعدہندوستان سے رحلت کر کے پاکستان چلے گئے ،اور وہیں پر مستقل سکونت اختیارکرلی۔انھوں نے کئی ایک افسانے لکھے ۔جو کہ اپنی مثال آپ ہے ۔ ان کی تحریر میں بلا کا جادوتھا ۔جس کے ذریعے وہ پڑھنے والوں کو سحر زدہ ہو نے پر مجبورکردیتے ہے۔
ان کی کہانیوں کے بارے میں شمیم حنفی یوں لکھتے ہیں :
’’ایک نئے افسانہ نگار نے،برسوں پہلے مجھے لکھا تھا….’’ہماری کہانیاں آ پ کو اس وقت تک پسند نہیں آئیں گی جب تک ،برسوں آپ قرۃالعین اور انتظار حسین کے سحر سے نہ نکل آئیں ۔‘‘۱؂
(۱؂ہم سفروں کے درمیان ۔۔شمیم حنفی۔۔ص۔۳۵۔۔سن اشاعت۔۲۰۰۵ء۔۔انجمن ترقی اردو (ہند)نئی دہلی ۔)
مندرجہ بالا عبارت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہیکہ انتظار حسین کی کہانیوں میں واقعتاًایک جادوہے۔ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’گلی کوچے‘‘۱۹۵۱ء میں منظر عام پر آیا ۔اس کے بعد ’’کنکری ‘‘۱۹۵۷ء ’’آخری آدمی‘‘۱۹۶۷ء اور ’’شہرافسوس ‘‘۱۹۷۲ء ’’کچھوے‘‘۱۹۸۱ء ’’خیمے سے دور ‘‘۱۹۸۶ء ’’خالی پنجرہ ‘‘۱۹۹۳ء ’’شہزادے کے نام ‘‘۲۰۰۲ء وغیرہ منظر عام پر آ چکی ہیں ۔اس کے علاوہ ان کے ناول ’’چاند گہن ‘‘۱۹۵۳ء ’’دن اور داستان‘‘۱۹۶۲ء’’بستی‘‘۱۹۸۰ء’’تذکرہ ‘‘۱۹۸۷ء ’’آگے سمندرہے‘‘۱۹۹۵ؤغیرہ قابل ذکر ہے۔افسانوں اور ناولوں کے علاوہ انھوں نے اخباروں میں کالم نویسی بھی کی ۔جن میں ذرے ،ملاقاتیں ،بوندبوند وغیرہ شامل ہیں ۔
انتظار حسین ایک سادہ لوح انسان تھے ۔ان کی شخصیت میں کسی طرح کی تصنع وبناوٹ نہیں پائی جاتی ۔ جس طرح ان کا مزاج سادہ ہے،اسی طرح ان کی کہانی بھی تصنع وبناوٹ سے پاک ہے ۔ مقفیٰ ومسجع عبارت آرائی ان کے افسانوں میں نہیں پائی جاتی ۔اور نہ ہی وہ خطیب و مقررنظر آتے ہیں۔سنجیدگی اور متانت ان کے مزاج میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ وہ صبح سویرے اٹھتے ہیں اور یہ وقت ان کا زیادہ تر لکھنے پڑھنے میں گزرتاہے ۔اور اس کے بعددن کا بیشتر حصہ ان کے اور دیگر کاموں کی مصروفیات میں صرف ہوتا ہے ۔اور شام کے اوقات وہ اکثر اپنے احباب کے حلقے میں گزارتے ہیں ۔یہ ان کی زندگی کا روز مرہ کا مشغلہ ہے ۔
انتظار حسین کی عادت میں ایک خاص بات یہ بھی شمار ہوتی ہے کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی بہت سنجید گی اور گہرائی سے سوچتے ہیں،حتیٰ کہ وہ پرندوں کی چہچہاہٹ بھی اگر سنتے ہے ،تو اس کو بھی بغور سنتے ہیں ۔اور ان کے چہچہانے اور خاموشی ،دونوں کا برابر اثر قبول کرتے ہیں ۔اس بات کی وضاحت شمیم حنفی کی اس عبارت سے ہو تی ہے :
’’ایک صبح دلّی میں ہم جامعہ نگر سے اوکھلا نہر اورجمناجی کی طرف جانے والی سڑک پر چہل قدمی کے لئے نکلے اور ایک ہری بھری ڈالی پر فاختاؤں کی برات دکھائی دی تو انتظار حسین نے کہاْ ….نئی شاعری میں فاختہ بولتی کیوں نہیں ؟یہ آوازناصر کی غزل کے ساتھ رخصت ہوئی ۔وہ اس کے بولنے اور چپ رہنے دونوں کا نوٹس لیتا تھا’’فاختہ چپ ہے بڑی دیر کیوں؟۔‘‘ ۱؂
(۱؂ہم سفروں کے درمیان ۔شمیم حنفی۔ص۳۸ ۔۲۰۰۵۔انجمن ترقی اردو(ہند )نئی دہلی)
ترقی پسند سے متاثر ہوکر ادیبوں نے جو افسانے لکھے تھے وہ زیادہ تر حقیقت پسند افسانے ہی تھے ،جن میں مزدورو محنت کش طبقے کے حالات کی غمازی کی گئی تھی ،اور مزدور و محنت کش طبقے پر جو ظلم زیادتی ساہوکار وں اور زمینداروں کے ذریعے ہوتی تھی اس کا بیان اکثر اس وقت کے افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں کے ذریعے کیا تھا ۔جس سے اکثر اد یبوں کے بارے میں معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی تحریریں ترقی پسند تحریک سے متاثر ہے ۔لیکن انتظار حسین کی تحریر اپنے آپ میں بالکل الگ ہے۔ان کی تحریریں اکثر ایسی ہوتی ہیں کہ جن سے یہ معلوم نہیں ہو تا کہ انھوں نے یہ تحریر کس سے متاثر ہو کر لکھی ہے ۔ان میں ترقی پسندیت ہے ،یا علامتی ہے ،تجریدی ہے یاجزباتی۔ یہ مسئلہ آج بھی قابل غور ہے ۔
ان کی تحریر میں ایک خاص اسلوب پایا جاتا ہے جو بہت ہی کم لوگوں کی تحریر میں پا یاجاتا ہے ۔لیکن اس کے سا تھ ہی وہ سادگی کا دامن اپنے ہاتھ سے چھوڑ تے نظر نہیں آتے ،جو ان کی بالغ نظری اور دور اندیشی کا ثبوت ہے ۔
ان کی افسانہ نگاری اور اسلوب کے بارے میں شمیم حنفی یوں بیان کر تے ہیں :
’’ترقی پسندوں نے ایک ضابطہ بند اقلیم سے رشتہء وفا استوار کر نے پر زور دیا تھا ۔نئے ادیبوں نے اپنی قوت ایجاد اور نئی تکنیکوں کے زعم میں (علامت تجرید)افسانے کو جس حال تک پہنچایا ،وہ سب ہمارے سامنے ہے ۔ انتظارحسین رجعت پسند ہیں کہ ترقی پسند ، کہ جدید ، یہ معمہ بہتوں کے لئے آج بھی حل طلب ہے ۔ایک چہرے میں اتنے چہرے کہ کثرت نطارہ سے انتظار حسین کے بہت سے نقاد پریشان ہو گئے ‘‘۔۲؂
(ہم سفروں کے درمیان،شمیم حنفی، ص ۴۳۔ ۲۰۰۵ء ۔ انجمن ترقی اردو (ہند )نئی دہلی)
ان تمام باتوں کے علاوہ انتظار حسین میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ حقیقت اور تواریخ کو ایک ہی کڑی میں پرونے کا عمل بھی جانتے ہیں ۔لیکن وہ کبھی تاریخی یا حقیقت نگاری کی رو میں نہیں بہتے ۔ بلکہ دونوں کو الگ لگ نظرئیے سے دیکھتے ہیں ،وہ کبھی کبھی تاریخی حوالوں کو نظر انداز بھی کر جاتے ہیں ۔
انتظار حسین کو صحیح طریقے سے پہچاننے کے بعد با آسانی یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جو طریقہ ترقی پسندیا حقیقت پسند کہانیوں کو لکھنے کا ہو تا ہے وہ بالکل الگ ہے اور یہ بات ان کے مزاج کے خلاف ہے ۔اس لئے ان کے افسانے مضبوط حوالوں اور اپنے مقام ومرتبہ کے مطابق تاریخی تحریروں کا یقین نہیں کرتے ۔اور نہ ہی انھیں اس انداز میں پڑھا جا سکتا ہے جیسے کوئی ناول وغیرہ کو پڑھ سکتے ہے ۔ان کی کہانیوں میں جس مضبوطی کے ساتھ والوں کوشرمندگی،تکلیف اور ڈر محسوس ہوتا ہے ،اس طرح عہد حاضر کے بہت ہی کم لکھنے والوں کی پہنچ بنتی ہے ۔
انتظار حسین اکثر اپنے میں مستغرق رہتے ہیں ،اور اپنے اوقات وہ اپنے مروجہ اصولوں کے مطابق ہی گذار تے ہیں ۔ ان کی باہری آس پاس کی دنیا کا طوفان ان کی خارجی زندگی میں ہی نظر آتا ہے ،جسے وہ اپنی اندرونی زندگی میں داخل نہیں ہونے دیتے ۔ان کی شخصیت بالکل ایک بند کمرے کی مانند ہے،اس بند کمرے کی مانند ۔جس کے راز آسانی سے ظاہر نہ ہوسکتے ہو ۔اسی وجہ سے ان کی تحریریں بھی مثلِ سراب کے ہے جو دور سے پانی نظر آتا ہے ،لیکن پاس پہنچنے پر گرم ریت دکھائی پڑتی ہے۔یا مثلِ جوالا مکھی کے ۔جو باہر سے خاموش ،اور اندر سے لاوا ہوتا ہے ۔
اس کے علاوہ ان کی تحریروں میں اکثر وبیشتر چارطرح کے رنگ نظر آتے ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہے ۔پہلے درجے کی ان کی کہانیوں میں زیادہ تر معاشرتی رنگ ہی نظر آتا ہے ۔ جس کے ذریعے سے وہ معاشرتی نظام کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کر تے ہیں ۔دوسرے نمبر پر ان کی کہانیوں میں رومانیت و اخلاقیت کی منظر کشی ہو تی ہے ۔ جس کے سہارے وہ اخلاق و رومانیت کے زوال و فروج کے قصے بیان کر تے ہیں ۔تیسرے زمرے میں جو کہانیا ں انھوں نے قلم بند کی ہیں ان میں سیاسی ، اور سماجی حالات کو مکمل طریقے سے اجا گرکر نے کی سعی کی ہے۔ کہ ہمارے سماج ومعاشرے ،یا سیا ست میںآج کل کیا کیا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہے ۔اور چو تھے درجے کی کہانیوں میں انھوں نے زیادہ تر نفسیات یا (psycological)پرزور دیا ہے ۔اس کے بر عکس انھوں نے ہندو دیو مالائی کہانیوں اور بودھی جاتک کتھاؤں بھی اپنے افسانو ں کاموضوع بنایا ہے۔ انتظار حسین کا یہ کام بھی قابل قدر ہے انھوں نے اپنی کہا نیوں میں یورپ کے کلچر کو من و عن ہی قبول نہیں کیا ،بلکہ مشرقی ہےئت کی مصوری ان کے افسانوں میں ہر جگہ نظر آتی ہے ۔اس کی وضاحت پروفیسر گوپی چند نارنگ کے اس قول سے ہوتی ہے :
’’انتظار حسین کا یہ کارنامہ معمولی نہیں کہ انھوں نیافسانے کی مغربی ہےئت کو جوں کا توں قبول نہیں کیا ۔بلکہ کتھا کہانی اور داستان و حکایت کے جو مقامی سا نچےindigenousmodlsمشرقی مزاج عامہ اور افتادِذہنی صدیوں کے عمل کا نتیجہ تھے۔ اور مغربی اثرات کی یورش نے جنھیں رد کردیا تھا ، انتظار
حسین نے ان کی دانش و حکمت کے جوہر کو گرفت میں لے لیااور ان کی مدد سے مروج سانچوں کی نقلیب کر کے افسانے کو ایک نئی شکل اور نیا ذائقہ دیا ۔‘‘
(اردو افسا نہ روایت ا ور مسائل۔مرتبہ گوپی چند نارنگ ۔ص۵۹۰ ۔۲۰۰۸ء۔ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس دہلی )
انتظار حسین نے اردو داستان و کہانی کو بالکل ایک نئے طریقے سے تخلیق کیا۔ان کے فن میں ایک عجیب کمال یہ بھی نظر آتا ہے کہ انھوں نے کہا نیوں کو صوفیانہ انداز کے ساتھ ساتھ فلسفہ تلاش و جستجو اور بیتابی سے روشناش کرایا ۔انھوں نے موجودہ وقت کے انسانی تقاضوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو برائیاں انسان اور معاشرے میں رونما ہو رہی تھی وہ تمام تر برائیاں ان کے افسانوں کا مطالعہ کر نے سے عیاں ہو جاتی ہیں ،جس کا وہ ازالہ کہانیوں کے ذریعے سے کرنا چاہتے ہیں۔تاکہ دنیا اور انسانیت باقی رہے ۔

عامر نظیر ڈار
ایم فل ریسرچ اسکالر
شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے