انتہا ہونے سے پہلے سوچ لے

انتہا ہونے سے پہلے سوچ لے

بے وفا ہونے سے پہلے سوچ لے

بندگی مجھ کو تو راس آ جائے گی

تو خدا ہونے سے پہلے سوچ لے

کاسۂ ہمت نہ خالی ہو کبھی

تو گدا ہونے سے پہلے سوچ لے

یہ محبت عمر بھر کا روگ ہے

مبتلا ہونے سے پہلے سوچ لے

بچ رہے کچھ تیرے میرے درمیاں

فاصلہ ہونے سے پہلے سوچ لے

زندگی اک ساز ہے لیکن کنولؔ

بے صدا ہونے سے پہلے سوچ لے

آسناتھ کنول

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے