انسانی مرگ پر مہکتی اکائیاں

انسانی مرگ پر مہکتی اکائیاں
بِنا شور
اُڑتی ہوئی خوف کی چِیل
پنجوں میں
غافل دماغوں کے چُوزے دبوچے ہوئے جارہی ہے
کہیں
غل غپاڑہ ہوا
آہ و گریہ کے ستھر بچھے
جاہ وحشمت کی وسعت ہوئی بے بصر
فاصلوں، سرحدوں کی نمائش ہوئی بے اثر
ہست کی مرکزی حاکمیت رواں ہوگئی
شعلگی آدمی کی دُھواں ہوگئی
یوں تکبر بھرے بادبانوں کے بخیے اُڑے
سیپیوں کی طرح مردہ خانے بھرے
جاگتی زندگی جھاگ بن کے ہوئی کھارا پانی کُھلے ساحلوں پہ
دِشا ، ماہیت، زاوئیے پارہ پارہ ہوئے
جو مقدر بناتے تھے وہ بے سہارہ ہوئے
الوداع
بارشو،
آبشاریں ہمارے بدن کی،
تعفن زندہ جوہڑوں سے بھری ہیں
زمینیں، ہمارے نہ ہونے سے کتنی ہری ہیں
کبوتر نے بے دھار مہکی فضا میں چھلانگیں لگائیں
نگائیں مصفا مناظر کی چڑیا کو چُھو کر ہیں آئیں
چِھلی دھاریاں موسموں کی شہابی طراوت سے کھلنے لگیں
وہ تمازت جو معزول تھی نرم کرنوں کی،
ہر اِک اکائی سے ملنے لگی
عرفان شہود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے