ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا

ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا
کوفہ کے سارے لوگ مدینے میں لاؤں گا
یہ زر بھی ایک روز دفینے میں لاؤں گا
سارے جہاں کے درد کو سینے میں لاؤں گا
مٹی کچھ اجنبی سے جزیروں کی لازمی
لوٹا تو اپنے ساتھ سفینے میں لاؤں گا
پہلے کروں گا چھت پہ بہت دیر گفتگو
پھر اس کے بعد چاند کو زینے میں لاؤں گا
جی بھر کے میں نے خاک اڑا لی نگر نگر
اب زندگی کو ایک قرینے میں لاؤں گا
احمد خیال 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے