In Ka Kia Muqabla

ان کا کیا مقابلہ ۔ ڈاکٹر نور ظہیر

پہلی نظر میں ہی وہ دیپیکا کو جانی پہچانی سی لگی۔ جب غور سے دیکھا تو اپنے پن کا آبھاس ہوا۔ کچھ پل اُسے نہارنے کے بعد دیپیکا کی سمجھ میں آیا کہ وہ دیکھی ہوئی سی کیوں لگ رہی تھی۔ انجان ہونے کے باوجود وہ بہت کچھ دیپیکا جیسی تھی۔ نہیں، روپ رنگ یا شکل صورت سے تو نہیں، مگر اس کے پورے وجود میں ایک ویسی ہی تھکان، ایک غیردلچسپی کا بھاؤ تھا جو زندگی بھر کہیں پہنچنے کی امید میں چلتے رہنے کے بعد، عمر کے انت میں دِشائیں کھوجانے پر ہوتا ہے۔ کہنے کو وہ چل پھر رہی تھی، بیٹھ کر کھا بھی رہی تھی، آتے جاتے لوگوں کو گھور بھی رہی تھی، مگر اس کے ہر کام میں ایک ٹھہراؤ تھا جو ذرا دیر کے بعد اسے نڈھال سا کردیتا اور وہ چپ چاپ ایک کنارے بیٹھ جاتی۔ اسی مجبوری اور لاچاری کے بھاؤ نے دیپیکا کو اس کے ساتھ دوستی کرنے پر اُکسایا تھا۔ ویسے ناک نقشے میں بھی دیکھا جائے تو خاص انتر نہیں تھا۔ بس اتنا کہ دیپیکا پانچ فٹ چار انچ کی تھی اور وہ تین فٹ کے قریب ک، دیپیکا کے کیول سر پر بال تھے جو اب پکنے لگے تھے اور اس کے پورے شریر پر سرمئی روئیں تھے۔ یوں تو دیپیکا بھی گوری نہیں تھی لیکن اس کا منہ بالکل کالا تھا۔ دونوں کا پکارنے کا نام بھِنّ تھا — دیپیکا عورت کہلاتی تھی اور وہ لنگورنی۔ فرق بس یہیں تک۔ اور سمانتا؟ اس کے بھی چہرے پر جھڑیاں آنے لگی تھیں، چھاتیاں جو کبھی گولائی دار رہی ہوں گی اب جھول رہی تھیں ، کئی گربھ کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے پیٹ لٹک گیا تھا، انگوں کی اسپھرتی گھٹ گئی تھی جس کے کارن وہ پیڑوں کی پھنگیوں پر کلاٹیے مارنے کے بجائے، نیچے سڑک کے کنارے پتھروں پر گھومتی پھرتی اور خود کو وشواس دلاتی رہتی کہ وہ ابھی بھی وہ سب کچھ کرسکتی ہے جو جوان لنگور کرتے ہیں۔

دیپیکا اس کی طرف اپنے پن سے مسکرائی اور آگے بڑھ لی۔ شملہ میں اب ایک یہی علاقہ شانت اور ہریالا رہ گیا تھا۔ یہ پتلی سی سڑک جو سمر ہِل پر بنے راشٹرپتی نواس کو شہر سے جوڑتی ہے۔ راشٹرپتی نواس، جس میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس سٹڈیز تھا، جہاں دیپیکا پندرہ دن پہلے دو سال کے لیے فیلو ہوکر آئی تھی۔ گھر، پتی، بچوں سے دو سال کی چھٹی۔ پہلی بار اس کی سمجھ میں آرہا تھا، کہ پراچین بودھ بھکشوؤں کو کیسے آنندکا آبھاس ہوا ہوگا، چولہے چکّی، رکھ رکھاؤ، آدر ساتکار، شرم لحاظ کے بندھنوں سے مُکت ہوکر۔ کیا پروش کبھی سمجھ پائیں گے، عورت کے لیے آزادی کے کیا مطلب ہوتے ہیں؟

دو ڈھائی گھنٹے مال اور رِج پر گھومنے کے بعد، دیپیکا نے اپنے لیے لوور مال سے پھل خریدے اور شملہ کے بندروں کے ڈر سے انھیں اپنے کالے چمڑے کے بیگ میں رکھ کر واپس انسٹی ٹیوٹ کی طرف بڑھی جہاں اس کا کمرہ تھا۔ وہ چھوٹا سا کمرہ، جس میں ایک پلنگ تھا، ایک لکھنے کی میز، دو کرسیاں اور ایک بُک شیلف جس پر ابھی تک صرف اس کا لیٹ ٹاپ رکھا تھا۔ اتنی کم چیزوں کے باوجود وہ کتنا اپنا لگتا تھا، جو سات آٹھ کرائے کے گھر اور انت میں خریدا فلیٹ کبھی نہیں لگے۔ اس کے قدم تیز ہوگئے گھر کی طرف۔

دوپہر کو وہ لنگورنی جہاں بیٹھی تھی وہاں خود بخود دیپیکار کے پیر ذرا سے ٹھٹھکے اور اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ وہ نظر نہیں آئی۔ شاید لوٹ گئی ہوگی، جہاں بھی اس کا ٹھکانہ تھا۔ پھر ایک پتھر کے پیچھے سے ایک ہاتھ آیا جس کی لمبی لمبی، پتلی انگلیوں پر سخت چمڑے کی پپڑیاں اکھڑ رہی تھیں اور ناخن کٹے پھٹے سے تھے۔ نہ جانے کیوں دیپیکا نے اپنی مٹھی بھینچ لی۔ پھر اس کا سر نظر آیا جس میں دو اداس آنکھیں گھبرا گھبرا کر جھپک رہی تھیں۔ پھر دوسرا ہاتھ جس میں کچھ سفید ہری چپچپی سی چیز تھی، ناک ذرا سی سکڑی ہوئی تھی جیسے کسی کو کوئی بدبودار چیز کو جبرن سونگھنا پڑ رہا ہو اور منہ بھنچا ہوا تھا جیسے بُو امید سے زیادہ بُری نکلی ہو۔ اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ملیدے کو ایک بار دیکھا، پھر آنکھیں بند کرکے ہاتھ کو منہ تک لے گئی۔ دیپیکا کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور اس کا ہاتھ بیگ کے اندر چلا گیا۔ ناشپاتی کو ہاتھ میں دبائے وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے دیا کیسے جائے۔ اپنی پوری شہری زندگی میں اس نے کیول دو بار بندر کا ناچ دیکھا تھا۔ لنگور کے برتاؤ کی جانکاری ہونا تو دور کی بات تھی۔ ہاں، اس نے سنا ضرور تھا کہ ان کے ہاتھوں اور پونچھ میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ تھپڑ مارے تو کلّا نکال لے۔ یہ والی ذرا بوڑھاگئی تھی تو کیا؟ گال نکلا نہیں تو پنجے کا نشان تو پڑ ہی جائے گا۔ خطرہ اٹھایا جائے؟۔۔۔ وہ سوچ ہی رہی تھی کہ لنگورنی نے اپنا ہاتھ پتھر پر رگڑ کر صاف کردیا۔ ابھی فاقہ کشی کی ایسی حد نہیں پہنچی تھی کہ کچھ بھی سڑا بھوسا گلے سے نیچے اتار لیتی۔ اسے رات کو بھوکا سونا منظور تھا۔ وہ پلٹ کر جانے ہی والی تھی کہ دیپیکا نے اپنا ہاتھ ذرا سا آگے بڑھایا۔ پلک جھپکتے، ناشپاتی اس کے ہاتھ سے غائب ہوگئی۔ دیپیکا حیران تھی اور کچھ گھبرائی بھی کہ ناشپاتی اس کے ہاتھ میں تھی بھی یا نہیں۔ پھر کچھ دور پر اسے ناشپاتی کترتے ہوئے دیکھا، تب اسے اطمینان ہوا۔ چھوٹے چھوٹے گراس کاٹ کر کھارہی تھی تاکہ پھل زیادہ دیر تک چلے۔

پھر تو یہ روز کی بات ہوگئی۔ دیپیکا آتے جاتے اسے ضرور کچھ نہ کچھ کھانے کی چیز دیتی اور وہ جنگل کے کنارے آکر، سڑک کے پاس، تقریباً وہاں — جہاں راشٹرپتی نواس کی چہاردیواری شروع ہوتی تھی، اس کا انتظار کرتی۔ اکثر وہ پھل لینے کے بعد بھی دیپیکا کے ساتھ ساتھ چلتی۔ دونوں میں باتیں ہونے لگیں۔ دیپیکا ہی بات کرتی۔ گھر پریوار ہونے کے باوجود اپنے اکیلے ہونے کی وجہ بتاتی، اپنے پتی کے باتونی پن کی بات کرتی۔ دھاراپرواہ بتیانا جس میں کام کی بات ایک بھی نہیں ہوتی۔ جس چپڑ چپڑ سے اس کا دماغ خالی ہوجاتا اور سر بھنّانے لگتا، جسے شانت کرنے کے لیے وہ چیخ پڑتی اور اس پر یہ دوش آتا کہ وہ جھگڑا کرتی ہے۔ بھلا کوئی پتنی اپنے پتی کا بولنا بند کرواتی ہے؟۔۔ نہ جانے لنگورنی کتنا سمجھتی مگر جواب ضرور دیتی، کبھی اس کی پیٹھ تھپتھپاتی، گود میں لیٹ جاتی کہ دیپیکا کو مجبوراً اس کے بدرنگ پڑگئے لوم کو سہلانا پڑتا۔

پہلی بار جب حرارت سی محسوس ہوئی تو دیپیکا سمجھی کہ یہ موسم کے بدلاؤ کی وجہ سے اس کے شریر کی آواز ہے۔ بدن کے درد کو، بڑھتے ہوئے دماغی کسرت سے جوڑا کیونکہ بے چارے دماغ نے پچھلے بیس سالوں سے موسمی سبزیوں اور مسالوں میں پھیر بدل سے زیادہ کچھ نہیں سوچا تھا،لیکن جب تیسرے دن بخار نے زور پکڑا اور اسے مجبوراً انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا تو وائیرل انفیکشن پکڑا گیا۔ گھر اور آس پاس کے شور سے جوجھتے ہوئے وہ اکثر سوچا کرتی تھی کہ ایسے ہی ماحول سے تنگ آکر غالب نے لکھا ہوگا:
پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

لیکن آج پہلی بار اکیلے بیماری سے جوجھتے ہوئے کسی اپنے کی بڑی سخت ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ سب پوچھو تو پریوار کے لوگ آس پاس ہوتے، تب بھی اپنا کہنے کو کون ہوتا تھا؟ بیٹا بیٹی دونوں — ’ممی ڈاکٹر کو دِکھلا لیجیے نا‘ کی صلاح دے کر دامن جھٹک لیتے۔ پتی اتنی بھی زحمت نہیں اٹھاتے ”دیپیکا کروسین کی دو گولی لے لو“ پر ٹرکا دیتے۔ ساتھ تو اس کا وہ چھوٹی چھوٹی شیشیوں میں بھری ننھی ننھی سفید گولیاں ہی نبھاتیں، وہ چھوٹا سا ہومیوپیتھی کی دوائیوں کا بکس، جو آج تک اس کی ہر بیماری کا حال نکالتا آیا تھا۔ آج، اس کی کچھ زیادہ کی ضرورت کون پوری کرتا۔ وہ سونے کمرے پر نظر گھما رہی تھی کہ وہ جانا پہچانا چہرہ دکھائی دیا۔ بیچاری! تین دن سے بھوکی ہوگی۔ دیپیکا نے کسی طرح کمزوری پر قابو پاکر پلنگ سے میز تک فاصلہ طے کیا اور دو کیلے اٹھاکر کھڑکی کی سلاخوں سے اس کی طرف بڑھا دیے۔ اس نے کیلے لے لیے پر گئی نہیں۔ دیپیکا کو چنتا بھری آنکھوں سے نہارتی رہی۔ اسے سمجھا بجھاکر دیپیکا واپس پلنگ پر لیٹ گئی۔ کچھ دیر کو اسے نیند آگئی۔ دروازے پر کچھ شور سے اس کی آنکھ کھلی تو دیکھا کھڑکی پر لنگورنی بڑی ڈھٹائی سے ڈٹی ہوئی کھوکھیا رہی ہے اور چائے لے کر آیا ہوا میس کا لڑکا اسے بھگانے کی ناکامیاب کوشش کررہا ہے۔ جتنی تیزی سے ممکن ہوا دیپیکا دروازہ کھول کر لڑکے کو ڈپٹنے لگی۔ لڑکے کو ایک لنگور کے سامنے اپنی ہتک بھلا کیسے گوارا ہوتی۔ پھر یہ بھی تھا کہ وہ یہاں استھائی تھا، فیلو تو آتے جاتے رہتے تھے۔ بگڑکر بولا — ”جی اندر گھس جائے گا، توڑ پھوڑ کرے گا۔ آپ کے سامان کا بھی نقصان ہوگا اور ہمارے سامان کا بھی۔“

”پہلی بات تو یہ کہ اندر آئے گی نہیں، دوسرے اپنے سامان کی میں فکر کروں گی، تیسرے اگر تمہارا نقصان ہوا تو میں بھرپائی کردوں گی، اب جاؤ“۔۔

لڑکا بڑبڑاتا ہوا چلا گیا اور لنگورنی پھر اپنی جگہ کھڑکی پر تعینات ہوگئی۔ پانچ دن وہ صبح سویرے آجاتی اور پورے دن وہیں بنی رہتی۔ چھٹے دن جب دیپیکا کی طبیعت اتنی اچھی ہوگئی کہ انسٹی ٹیوٹ کے باغ میں ٹہل سکے، تب، اس نے خود ہی آنا بند کردیا۔

دونوں میں گہری دوستی ہوچلی تھی کہ ایک عجیب حادثہ ہوا جس سے دیپیکا کا دل اس کی طرف سے کھٹّا ہوگیا۔ روز کی طرح دیپیکا اسے ایک سیب دے کر تیزی سے شملہ کی طرف بڑھ رہی تھی کہ یاد آیا کہ جو خط اسے شملہ سے کوریئر کرنا تھا وہ تو کمرے کی میز پر ہی چھوٹ گیا۔ الٹے پاؤں واپس لوٹ رہی تھی تو کیا دیکھتی ہے کہ اس کا دیا ہوا سیب، ایک موٹا سا، اونچا لمبا لنگور بڑے بڑے نوالے کاٹ کاٹ کر کھا رہا ہے۔ وہ بڑی شان سے اسی چوڑے پتھر پر بیٹھا تھا جس پر دیپیکا روز آکر سستایا کرتی تھی۔ لنگورنی اس کے پیروں کے پاس وینیت بھاؤ سے بیٹھی تھی جیسے کسی حاکم کے آگے کرمچاری ہاتھ باندھے کھڑا ہو۔ وہ اسے ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک خوشی تھی اور ایک سکون بھی۔ لنگور نے مزے سے سیب کا زیادہ تر گودا کھایا اور بیجوں والا حصہ ایک طرف اچھال دیا۔ لنگورنی نے گٹھلی اٹھائی، اسے نازکی سے جھاڑا اور جاتے ہوئے لنگور کی پیٹھ نہارتے ہوئے اس میں سے بچا کھچا گودا کترکر کھانے لگی۔ جب اس کی نظر دیپیکا سے ملی تو وہ ذرا سا جھینپ کر، دور پیڑوں کے جھرمٹ میں چلی گئی۔

دیپیکا نے پہلے بھی اس موٹے لنگور کو دیکھا تھا۔ اپنی لنگورنی کے حرم سے گھرا ہوا، ایسا اتراتا گھومتا جیسے کہیں کا گلفام ہو۔ کبھی کبھی دھوپ میں پسرا، لنگورنیوں سے اپنا شریر ملواتا یا لوموں سے جوئیں نکلواتا دکھائی پڑتا۔ اکثر لنگورنیاں اس کے ہاتھوں سے مار بھی کھاتیں اور کبھی کبھار تو ایک آدھ کو کاٹ بھی کھاتا۔ اس کی ٹولی کے پاس پھٹکنے کی بھی ہمت کوئی باہر والا نہیں کرتا۔ دیپیکا بھی اس کے جھنڈ کو سڑک کے آس پاس دیکھ کر رُک جاتی اور ان کے گزر جانے کے بعد ہی آگے بڑھتی۔ ایسے بددماغ اور بے رحم سرغنہ کے جھنڈ میں کیوں شامل ہونا چاہ رہی تھی اس کی لنگورنی۔ دیپیکا نے اس سے ذرا زیادہ سمجھداری اور عقل مندی کی امید کی تھی۔

اگلے دن اسے اَن دیکھا کرتی ہوئی دیپیکا آگے بڑھ گئی۔ اسے کوئی پھل نہیں دے گی آج اس گھمنڈی، لفنگے لنگور کو رِجھانے کے لیے۔ بیوقوف کہیں کی، شرم بھی نہیں آتی، اس عمر میں بھی عشق کا چسکا۔ وہ پیچھے پیچھے آئے گی تب دیکھا جائے گا۔ جب نہیں آئی تو دیپیکا نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ اسی پتھر پر چپ چاپ بیٹھی تھی۔ دیپیکا کا دل بھر آیا۔ لوٹ کر اس کے پاس گئی اور کافی دیر تک اسے، اپنی اور اس کی عمر کے بارے میں، جیون درشن اور مردوں کے جھانسوں پر لیکچر دینے کے بعد، چار پلم اسے تھما کر لوٹ آئی۔ کوئی ہفتے بھر بعد اس نے لنگورنی کو اس موٹے لنگور کے گروہ میں دیکھا، ذرا پیچھے، سب کے بعد، ان کی تیز رفتار کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش کرتی ہوئی، تھکی مگر خوش لگی۔ دیپیکا نے ایک آہ بھری۔ عشق پر زور نہیں اور پھر بڑھاپے کا عشق۔ یہ جو نہ کروائے سو غنیمت مانیے۔۔

ایسا نہیں کہ اس نے دیپیکا سے دوستی توڑ ہی لی ہو۔ اب بھی اکثر اسی جگہ پر بیٹھی ملتی اور ہلکی بھوری آنکھوں میں ہچکچاتا سا سوال جھلکتا رہتا — ’تم اب بھی میری دوست ہو ناں؟‘ دیپیکا اس یاچنا کو ان دیکھا نہ کرپاتی اور اپنا بیگ کھول کر اس کے لیے لایا ہوا پھل اسے تھما دیتی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ پھل وہ موٹا لنگور کھائے گا۔

ایک دن شملہ سے لوٹتے ہوئے ذرا دیر ہوگئی۔ دیپیکا تیزی سے سنسان راستہ پار کررہی تھی تاکہ گہراتی شام کے ڈھل جانے سے پہلے انسٹی ٹیوٹ پہنچ جائے۔ اچانک کسی کے رونے کی آواز سنائی دی۔ بیچ بیچ میں دبی ہوئی چیخوں کی بھی اور کسی کے زور سے غرّانے کی۔ پہلے تو دیپیکار سمجھی کہ پیپل اور برگد کی طرح اوک اور دیوداروں پر بھی بھوتوں چڑیلوں کا ڈیرا ہوتا ہوگا۔ اس کے دماغ نے فوراً ترک دیا — یہاں تو پیپل یا برگد ہوتے نہیں۔ یہاں کی چڑیلیں بھی تو کہیں بسیرا کرتی ہوں گی، تو انھیں چیز یا دیودار پر ہی بسنا پڑتا ہوگا۔ اگلے پل خود کو ڈپٹ کر اس نے کالی پڑتی نرنجی لال گودُھلی میں پیڑوں کی اوپری شاکھاؤں کو آنکھوں سے ٹٹولنا شروع کیا۔ ذرا سی تلاش کے بعد وہ پیڑ مل گیا جس پر سے رونے کی آواز آرہی تھی۔ کئی لنگوری سائے ادھر اُدھر چھٹکے تھے اور بیچ میں ایک موٹا سا مضبوط عکس جو اپنے ذرا چھوٹے سائے کو بری طرح سے پیٹ رہا تھا۔ کچھ پل بعد جب اس کی آنکھوں کو چندھی روشنی کی عادت ہوگئی، اس نے پٹتے ہوئے شریر میں اپنی لنگورنی کو پہچانا۔ وہ بے قرار ہو، سڑک چھوڑ، جنگل کے سوکھے پتّوں پر دوڑنے لگی۔ ہانپتی ہوئی وہ پیڑ تک پہنچی اور ٹھیک نیچے کھڑی ہوکر زور سے چلائی — ”چھوڑ! چھوڑ اسے! کمینے! بدذات!“

موٹے لنگور نے ایک بار نیچے گھور کر دیکھا، پھر اپنا حق جتاتے ہوئے لنگورنی کو دو جھاپڑ اور لگائے، کندھے پر دانت گڑائے اور اسے زور سے دھکا دیا۔ وہ تین ٹہنیوں تک لڑکھتی ہوئی آئی اور دیپیکا اس کے گرنے کے اندیشے سے آگے لپکی۔ لیکن سب سے نچلی والی ٹہٹی پر اس نے اپنی پونچھ لپیٹ کر خود کو روکا، سنبھل کر نیچے اتری اور دیپیکا کو ان دیکھا کرتی ہوئی، سڑک تک آکر، اسی چٹان پر جس پر اکثر وہ اور دیپیکا بیٹھا کرتے تھے، چڑھی اور ہاتھ پیر چھوڑ کر نڈھال سی پڑگئی۔ گہراتے اندھیرے میں بھی زخم دِکھ رہے تھے، کئی جگہ لوم بھی نچے ہوئے تھے۔ اپنی نپنسکتا پر کھیج کر دیپیکا نے اس لنگور کی طرف دیکھا جو اپنی پلٹن لیے، شیخی بگھارتا، تنتا، اکڑتا ہوا چلا جارہا تھا۔ لنگورنی اپنے زخموں کو کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دے گی، زبردستی کی تو شاید کاٹ کھائے، اس لاچاری کو تو دیپیکا سمجھ رہی تھی۔ ڈر تو اسے یہ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ خود بھی اپنے زخم چاٹ کر صاف کرنے کی کوشش نہیں کررہی تھی۔ تھکے قدموں سے وہ کمرے تک پہنچی اور ساری رات، سویرا ہونے کے انتظار میں، کروٹیں بدلتے ہوئے کاٹی۔

جلدی جلدی تیار ہوکر جب وہ پتھر کے پاس پہنچی تو وہ اسی طرح سے بے جان پڑی تھی۔ ایک پل کو دیپیکا دھک سے رہ گئی پھر تھوڑا سا سرکی اور دیپیکا کے بیٹھنے بھر کی جگہ خالی کردی۔ وہ سوچ ہی رہی تھی کہ کہے — میں نے توپہلے ہی کہا تھا، ایسی حرکتوں کا یہی انجام ہونا تھا۔ اب بھگتو! یا اسے سانتونا دے کہ چلو اچھا ہوا، جلد ہی اسے کمینے کی اصلیت کھل گئی، پنڈ چھوٹ گیا۔ نہ جانے کیا سوچ کر وہ کچھ نہیں بولی۔ بس بیگ سے انگوروں کا گچھا نکال کر اس کی تھوتھنی کے سامنے رکھ دیا۔ وہ ایک ایک کرکے، دھیرے دھیرے کھانے لگی۔ ایک بار گردن موڑ کر اس نے دیپیکا کو نظر بھر کر دیکھا۔ ایسی نظر جو احسان کے بھار سے سیدھے دل میں اتر گئی۔ دیپیکا سمجھ گئی۔ یہ آبھار انگور کے گچھے کے لیے نہیں تھا، اسے بچانے کی کوشش کرنے کے لیے بھی نہیں تھا، نہ ہی آج اسے دیکھنے آنے کے لیے تھا۔ یہ آبھار کوئی الاہنا، نصیحت یا سانتونا نہ دینے کے لیے تھا۔ یہ آبھار دوست ہونے کے لیے تھا۔

کچھ دنوں کے بعد لنگورنی تقریباً ٹھیک ہوگئی، ایک عجیب سی سنجیدہ سی اداسی نے اسے گھیر لیا تھا۔ وہ ہمیشہ سڑک کے ہی پاس اسی بڑے سے پتھر پر بیٹھی ہوئی ملتی جیسے اسے جنگل کے اندر جانے سے ڈر لگنے لگا ہو۔ موٹا لنگور اور اس کی ٹولی دِکھنے بند ہوگئے تھے۔ انسٹی ٹیوٹ کے کرمچاریوں سے دیپیکا کو اس کا کارن پتہ چلا۔ آس پاس کے باغیچوں میں پھل پکنے لگے تھے اور کھیتوں میں مکّا بھی۔ کھانے کی اب کوئی کمی نہیں تھی، اسی لیے لنگورنی کے بھینٹ کیے ہوئے پھلوں کی اب اسے ضرورت نہیں تھی۔ اس سے اچھے اور تازے پھل اس کی دوسری لنگورنیاں لا سکتی تھیں۔
کچھ دنوں بعد دیپیکا پتھر کے پاس پہنچی تو وہ دکھائی نہیں دی۔ پندرہ منٹ انتظار کرکے دیپیکا چلنے کا ارادہ کرہی رہی تھی کہ وہ جنگل کی پگڈنڈی سے آئی ہوئی دکھائی دی۔ اس کی چال دھیمی تھی لیکن اس کی چال میں ایک بانکپن تھا۔ دیپیکا حیران ہوکر اسے دیکھتی رہی۔ وہ پتھر پر، پاس ہی بیٹھ گئی اور دھیرے سے مسکرائی۔ اس کی آنکھوں میں فخر کی نمی تھی۔ پس و پیش میں دیپیکا یہ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی کہ اس گرو کا کارن کیا ہے کہ نظر اس کے چہرے سے پھسل کر نیچے آئی۔ ڈھلکی ہوئی چھاتیوں میں اُبھار سا آگیا تھا۔ ڈھیلے پڑگئے پیٹ میں تناؤ بھی تھا اور ہلکی سی گولائی بھی نظر آرہی تھی۔ دیپیکا ہڑبڑاکر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ ویسے ہی بیٹھی، کچھ مونا لیزا کی طرح مسکراتی رہی۔

شام بھر دیپیکا اس کے بارے میں سوچتی رہی۔ کبھی گھبراکر، کبھی چِنتا میں، کبھی ہتاشا اور تکلیف سے۔ ڈھلتی جوانی کا حمل! ظاہر ہے کہ ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ وہ تو یوں بھی سب سے الگ تھلگ، سب کی نکالی ہوئی تھی۔ جو کم بخت لنگورنیاں اپنی جوانی اور ایک مرد کے حرم کا سدسیہ ہونے کے گھمنڈ میں، اسے بے دردی سے مار کھاتے ہوئے دیکھتی رہیں، وہ بھلا ایسے نازک وقت میں اس کا کیا ساتھ دیں گی؟ اسے اچھی خوراک کی ضرورت ہوگی اور شاید انتم دنوں میں زیادہ دیکھ ریکھ کی بھی۔ کیا بڑی عمر کے زچگی میں جانوروں کی جان کو بھی خطرہ ہوتا ہے؟ نہیں نہیں، ہرگز نہیں! وہ ایسا نہیں ہونے دے گی۔ حمل کے سَمے کیلے بہت اچھے ہوتے ہیں۔ وہ تو دونوں بار ہی درجنوں کے حساب سے کھاتی تھی۔ شاید تیسری بار بھی کھاتی اگر ……! اور پنیر؟ کیا لنگور پنیر کھاتے ہیں؟ اسی ادھیڑبن میں اس نے لنگوروں پر دو کتابیں پڑھ ڈالیں، انٹرنیٹ چھان مارا۔ خود پر ہنسی بھی آتی۔ کوئی دیکھے تو سمجھے — اس کی بیٹی کے یہاں پہلی خوشی کی تیاری ہے۔ روز کیلے خریدتی۔ دیر تک اس کے ساتھ بیٹھ کر بتیاتی تاکہ وہ خوش رہے، اکیلا نہ محسوس کرے۔

اس کا پیٹ تن گیا تھا، چال میں تھکاوٹ سی معلوم ہوتی تھی، خوراک گھٹنے لگی تھی، چہرے کی لکیریں گہری ہوگئی تھیں، لیکن آنکھوں کی چمک بڑھ گئی تھی۔ جانتی تھی، بڑھتے گربھ میں دوسری اسپیسیز سے دوری بنانا جانوروں کی پراکرتِک ضرورت ہے۔ وہ خود بھی دور ہٹ گئی۔ پھیلوشپ کا کام بھی تیزی سے چل رہا تھا اور ٹھنڈ بھی بڑھ گئی تھی۔ لائبریری سنٹرل ہیٹڈ تھی سو زیادہ وقت وہیں گزرتا۔ باہر نکلنا اور شملہ جانابھی کم ہوگیا تھا اور ٹہلنے کا وقت بھی بدل گیا تھا۔ کبھی کبھار وہ دور سے دِکھ جاتی، اکثر دیپیکا پھل پتھر پر ہی چھوڑ آتی۔ پتہ نہیں اسے ملتے بھی تھے یا دوسرے لنگوروں، بندروں کے ہاتھ میں لگ جاتے تھے!

جب تین دن لگاتار وہ دکھائی نہیں دی تو دیپیکا کو ذرا فکر شروع ہوئی۔ مگر ساتھ ہی خوش فہی بھی جاگی۔ اس نے انٹرنیٹ پر پڑھا تھا کہ پرسَو میں لنگورنی سب سے دور کہیں چھپ جاتی ہیں اور بچے کے جنم لے لینے کے بعد ہی لوٹتی ہے۔ کیسا لگے گا اس کی چھاتی سے چپکا، یا اس کی پیٹھ پر لدا ایک چھوٹا سا بچہ؟ کیسا ہوگا دِکھنے میں؟ اس کے تو اور بھی بچے ہوں گے، کیا اس عمر میں ایک اور بچے کا پالن پوشن اسے بوجھ لگے گا؟ چوتھے دن جب وہ نظر نہیں آئی تو دیپیکا کی فکر بڑھی۔ اتنے دن تو نہیں لگنے چاہیے۔ اس نے سڑک چھوڑ، جنگل کے اندر جانے والی پگڈنڈی پکڑی۔ جہاں تک ممکن ہوسکتا تھا سب طرف دیکھ آئی۔ کہیں اس کا پتہ نہیں ملا۔ گہرا اکیلاپن لیے وہ انسٹی ٹیوٹ لوٹ آئی۔

صبح کے چار بجے تھے۔ اس کے الارم کو بجنے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ وہ بے چین جاگی تھی جیسے کچھ گھٹنے والا ہے اور یہ طے نہیں کرپارہی تھی کہ وہ بُرا ہوگا یا اچھا۔ باتھ روم میں وہ جلدی جلدی منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ڈال رہی تھی تاکہ وہ پوری طرح جاگ کر کچھ کام ہی کرے۔ کل سے آئے ہوئے کتابوں سے بھرے دو ڈبّے ابھی بند رکھے تھے۔ کچھ نہ سہی تو انھیں ہی کھول کر کتابیں قرینے سے لگا دے۔ تولیے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے، جالی کے دروازے پر پھر وہی پنجا مارنے کی آواز سنائی دی جیسی کچھ پل پہلے سنائی دی تھی۔ نہیں، یہ چوہا تو نہیں لگتا۔ ہوسکتا ہے کوئی لومڑی یا سیار ہو۔ وہ کھڑکی کھول کر، باہر تفتیش کرنے ہی والی تھی کہ جالی پر اس بار اور زور سے پنجے مارنے کی آواز آئی اور اس کے ساتھ کسی کا ڈرکر ممیانا سا سنائی دیا۔ دیپیکا نے لکڑی کا دروازہ کھول کر باہر کی روشنی جلائی۔ وہ دونوں ہاتھ چھاتی پر دبائے بے چین سی ادھر ادھر ٹہل رہی تھی۔

ماجرا کیا تھا؟ دیپیکا کے جالی کے دروازے کی کنڈی کھلتے ہی وہ سامنے آئی۔ دونوں ہاتھ چھاتی سے ہٹاکر اس نے دیپیکا کی طرف بڑھائے۔ کالا سا، دیپیکا کی ہتھیلی سے کچھ بڑا، ایک مانس کا لوتھرا تھا، جس پر دو ننھے ننھے ہاتھ پاؤں، ایک ڈگمگاتا سر اور بہت ہی پتلی سی پونچھ تھی۔ جیون کے اس ادبھوت نمونے کو دیپیکا نہار ہی رہی تھی کہ برآمدے کی دیوار پر ایک خونخوار غرّاہٹ سنائی دی اور ساتھ ہی لنگورنی کی اندرونی چیخ گونجی۔ نہ جانے کس بھَے دیپیکا نے جالی کا دروازہ اتنا کھولا کہ وہ اندر آگئی اور پھر جلدی سے کھینچ کر بند کردیا۔ لنگور نے غصے سے بپھر کر اپنے پورے شریر کو جالی پر دے مارا اور باہر کی کنڈی پکڑ کر، پوری طاقت سے دروازے کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ جیسے تیسے دیپیکا نے اندر کی چٹخنی لگائی اور جلدی سے پیچھے ہٹ کر زور سے لکڑی کا دروازہ اس کے منہ پر بند کردیا۔ وہ بپھر پڑا اور اچھل کر کھڑکی کی سلاخوں میں لٹک گیا۔ دونوں ہاتھوں سے وہ سلاخوں کو اتنی زور سے جھکورے دے رہا تھا کہ لگ رہا تھا — اب ٹوٹی، اب ٹوٹی۔ کھڑکی کے لکڑی کے پاٹ بند کرنے کی ہر کوشش کو وہ ناکام کررہا تھا۔ ہاتھ بڑھاکر بند ہوتے ہوئے پاٹ کو دھکیل دیتا اور سلاخوں میں منہ چپکاکر ایسے بھیانک چہرے بناتا اور ایسی ڈراؤنی آوازیں نکالتا کہ دیپیکا کا دل کانپ جاتا۔ پھر اس نے جتنی بھی چیزیں ہوسکیں دیپیکا کی طرف پھینکنی شروع کی۔ کتابیں، پھولدان، الارم گھڑی، دونوں گلاس، چاروں لیمپ، الکٹرک کیٹل سب چکناچور ہوگئے۔ اس کی حرکت سے دیپیکا کو خیال آیا اور وہ کمرے میں، مارنے کی کوئی چیز ڈھونڈنے لگی۔ پورے کمرے میں ایسا کچھ نہیں تھا جسے مارنے کا ہتھیار بنایا جاسکے۔ ہارکر اس نے آکسفورڈ کی ڈکشنری اٹھائی ، انایاس ہی دل سے کہا — ’جے ماں سرسوتی‘ اور لنگور کی، سلاخوں سے اندر گھسی ناک اور تھوتھنی پر دے مارا۔ وِدیا کے اتنے زبردست وار سے وہ ایک پل جو سکپکایا تو دیپیکا نے پلک جھپکتے کھڑکی بند کردی۔ وہ باہر شور مچاتا رہا۔
کچھ راحت پاکر دیپیکا لنگورنی کی طرف پلٹی۔ وہ سکوچائی سی ایک کونے میں دُبکی بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک اپرادھی بھاؤ تھا، بار بار اس کی نظر ٹوٹی ہوئی چیزوں پر لوٹ جاتی۔ دیپیکا نے کیتلی کو ٹھوکر مارتے ہوئے کہا — ”کوئی بات نہیں، چیزیں ہی تو ہیں، اور آجائیں گی۔ مجھے یاد رکھنا چاہیے تھا کہ لنگور، جھنڈ میں اپنے علاوہ دوسرا نر داخل نہیں ہونے دیتے اور نر بچوں کو مار ڈالتے ہیں۔ مادہ کو کسی طرح انھیں بچانا پڑتا ہے۔ یہ بچہ نر ہے ناں؟ اب تمھیں رکھا کہاں جائے!“ سرائے جیسے کمرے میں بھلا پرانا فالتو کپڑا کہاں ہوسکتا تھا۔ جلدی جلدی دیپیکا نے کتابوں کے دونوں ڈبّے خالی کرے اور انھیں چپٹاکر اپنے پلنگ کے نیچے بچھایا۔ پھر ان پر اپنے دو تولیوں میں سے ایک کو بچھاکر لنگورنی کو اشارہ کیا۔ وہ چٹ سے جاکر اس پر لیٹ گئی اور اپنے کلوے بچے کو دودھ پلانے لگی۔

اتنے دن گربھ میں رکھ کر، اپنا خون اپنا دودھ پلانے والی عورت سے، بچہ چھین کر مار ڈالنے کا حق پروش کو کون دیتا ہے؟ وہ کسی قیمت پر ایسا نہیں ہونے دے گی۔ اس نے اپنی لڑائی چاہے ہاری ہو، یہ لڑائی وہ لنگورنی کو جتواکر رہے گی۔ نہیں! یہ وہ غلط سوچ رہی ہے۔ اپنی لڑائی اس نے لڑی ہی کہاں؟ اس نے تو لڑے بِنا ہی ہتھیار ڈال دیے تھے۔ ایک بار اس جیو کے لیے آواز بھی نہیں اٹھائی جو اس کے گربھ میں پل رہی تھی۔ کیا اتنی بڑی، مانس کا لوتھرا رہی ہوگی، جب سَمے سے پہلے اسے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا ہوگا؟ اس سے تو یہ لنگورنی ہی اچھی تھی، کم سے کم اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے بھاگی تو تھی اس نے تو لڑے بِنا ہار مان لی۔ کیوں، اس نے اسیم کی بات سنی تھی کہ گربھ کی جنس جانچ کرا لیتے ہیں۔ نہ جانچ ہوتی، نہ پتہ چلتا کہ لڑکی ہے، نہ اسیم یہ بات کہتے کہ ایک بیٹی ہوتے ہوئے دوسری کیوں اس دنیا میں لائی جائے۔ کیوں نہیں پوچھ پائی تھی کہ ایک بیٹا بھی تو ہے۔ ایک اور بیٹا اگر قبول ہے تو ایک اور بیٹی کیوں نہیں؟ کیوں اس نے بڑھتی عمر، گرتی صحت، بڑے بچوں سے عمر کا فرق، جیسی دلیلیں مان لی تھیں۔ کیوں آج وہ اپنے آپ سے نظر نہیں ملا پارہی تھی اور ایک لنگورنی کے بچنے کو بچاکر، اپنے اپرادھ کے بوجھ کو ہلکا کرنا چاہ رہی ہے۔ دیپیکا نے سر جھٹکا کر اتیت کے خیالوں کو جھاڑا۔ ابھی اسے پورا دھیان اس سمسیا پر دینا چاہیے۔ موٹے لنگور کو باہر تو بند کردیا تھا لیکن وہ گیا نہیں تھا۔ کمرے کا جائزہ لیا تو کھانے کے لیے زیادہ کچھ نہیں نکلا۔ کھانا وہ ڈائننگ ہال ہی میں کھانا پسند کرتی تھی اس لیے کمرے میں پھل یا ہلکے ناشتہ کا سامان ہی رہتا تھا۔ اپنے سَمے میں تو اسے بچوں کو دودھ پلانے کے بعد غضب کی بھوک لگتی تھی۔ کیا لنگورنی کو بھی ویسی بھوک لگے گی؟ وہ دونوں کیلے اور نمکین بسکٹ کا لفافہ بستر کے نیچے رکھنے کو جھکی۔ ہلکی خراٹوں کی آواز سنی تو اس نے ذرا اور نیچے جھک کر جھانکا۔ وہ بغل میں بچے کو دبائے بے سُدھ پڑی تھی۔ گہری نیند جو کامیابی کی نشانی تھی، اپنے بچے کو جنم دینے کی، اسے جیون دینے کی، اس جیون کو بچا پانے کی اور دھرتی پر جیون کا سلسلہ بنائے رکھنے کی جیت اور اس سے ملے سکون کی۔ وہ سکون جو اب دیپیکا کو کبھی نصیب نہیں ہوگا۔ کیا اسی لیے وہ اکثر چونک کر جاگ جاتی ہے؟ کیا وہ انگلیاں جو رات گئے، اس کے گال کو بڑے پیار سے سہلاتی ہیں اس بیٹی کی ہیں جسے اس نے جنم نہیں لینے دیا؟ جو اسے ماں کہنا چاہتی تھی لیکن جس کی ماں بننے سے اس نے انکار کردیا۔ وہ کیوں آج بھی اس کے آس پاس منڈلاتی ہے؟

اس نے لنگورنی کو دھیان سے دیکھا — نیند میں بھی وہ اپنا شریر سہلا رہی تھی۔ بیچاری۔ پتہ نہیں کتنی دور سے لُکتی چھپتی آئی ہوگی۔ تھک کر چور ہوگئی تھی۔ یا شاید یہ زچگی کی تھکان ہو۔ اسے خود بھی تو پورا شریر ٹوٹا سا لگتا تھا۔ جب بیٹا ہوا تھا تو مالش کرنے والی لگائی گئی تھی۔ کتنا آرام ملتا تھا گرم تیل کی مالش سے۔ بیٹی ہوئی تب ایسی کوئی سیوا ٹہل نہیں ہوئی تھی۔ لیکن تکلیف تو اس نے اتنی ہی سہی تھی اور آرام کی اتنی ہی ضرورت تھی۔ عجیب ہے کہ جانوروں میں نر کا جنم لینا جیون کا خطرہ بن جائے اور انسانوں میں مادہ کا۔ دونوں جگہ چناؤ الگ الگ، پر چننے والا ایک! مرد! آخر اس بات کا فیصلہ کرنے کا حق کب اور کیسے مردوں نے ہتھیا لیا!

کمرے سے کچھ دور سے آوازیں آنی شروع ہوئیں تو دیپیکا تھوڑی چوکس ہوئی۔ باہر کافی روشنی پھیل چکی تھی اور شاید صبح کی چائے لیے میس کا لڑکا گھوم رہا تھا۔ زیادہ تر تو وہ اتنا شور مچاتا ہوا، اس تیزی سے چائے بانٹتا ہوا آتا تھا کہ کوئی سویا ہوا تو اچھل کر کھڑا ہوجائے۔ آج کیا تھا کہ کچھ لوگوں سے اس کی باتیں کرنے کی آواز تو آرہی تھی مگر وہ خود دور ہی رُکا ہوا تھا۔ ذرا ڈرتے ڈرتے دیپیکا نے لکڑی کا دروازہ کھولا۔ آوازیں صاف ہوگئیں اور موٹا لنگور بھی دکھائی دیا جو کچھ دوری پر دروازے کی چوکیداری کررہا تھا۔

”ہاں جی ہاں، گیارہ نمبر کے سامنے بیٹھا ہے، میں دو راؤنڈ لگا چکا، وہاں سے ہٹ ہی نہیں رہا ہے۔ دیپیکا میڈم نے ہی اسے سر چڑھا رکھا ہے۔ کچھ دن پہلے اسے کیلے کھلا رہی تھی۔ میں نے منع کیا کہ مجھے ڈپٹ دیا۔ اب نہ وہاں سے ہٹ رہا ہے نہ کسی کو ادھر جانے دے رہا ہے۔“ میس کا لڑکا، نمک مرچ لگاکر، ہر کمرے پر اپنی داستان سنا رہا تھا۔ دس نمبر میں پنجاب سے آئے ایک سکھ سجّن تھے۔ وہ ہمت کرکے باہر آئے اور زور سے آواز دی — ”دیپیکا جی۔“
”جی میں اندر ہوں، اور اس لنگور نے پہرا بٹھا رکھا ہے۔ باہر نکلنے ہی نہیں دے رہا۔“ لنگور اس کی بات پر ثبوت کے طور پر زور سے غرّایا۔
”پر میڈم آپ نے اسے کیوں منہ لگایا۔ اب دیکھیے ہم سب کی مشکل ہوگئی۔“
”میں نے اسے کہاں مہ لگایا ہے؟ رتن سنگھ غلط کہہ رہا ہے۔ میں تو ایک لنگورنی کو پھل کھلاتی ہوں۔ وہ بیچاری تو اندر ہے۔ اسی کے بچے کو مارنے کے لیے ہی تو یہ گھات لگائے بیٹھا ہے۔“
کچھ دیر کو باہر برآمدے میں چپّی چھا گئی، جیسے وہاں جمع لوگ ایک دوسرے سے اشارے میں پوچھ رہے ہوں — ”یہ عورت پاگل ہے کیا؟“ پھر ان سردارجی کی آواز آئی — ”کچھ سمجھ میں نہیں آرہا، میں آپ کے موبائل پر کال کرتا ہوں۔“

پوری بات سمجھ کر، اس کے کمرے میں ناشتہ اور کھانا بھیجنے کی ذمے داری انھوں نے لے لی اور دیپیکا نہانے چلی گئی۔ لیکن دیپیکا کا اطمینان کچھ ہی دیر کا تھا۔ موٹے لنگور نے جھپٹّا مارکر ناشتے کی ٹرے الٹ دی، برتن چکناچور کردیے۔ دوپہر کو جب وہ کہیں نہیں دِکھا تو رتن سنگھ کو پھر راضی کیا گیا کہ اس بار ایک کپڑے کے تھیلے میں بھرکر دوپہر کا کھانا پہنچا دے۔ لنگور چھپ کر بیٹھا تھا، اس نے تھیلا چھین کر چندی چندی کرڈالا اور اپنی طاقت دِکھانے کے لیے رتن سنگھ کے کان پر کاٹ بھی لیا۔
اب کیا کیا جائے؟ وہ اور لنگورنی دونوں اندر قید، اپنے اپنے اپرادھ بودھ سے ایک دوسرے کو نہار رہی تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کو دلاسہ دے رہی تھیں، کوئی نہ کوئی راستہ نکلے گا۔ کیسے؟ کہاں سے؟ یہ دونوں کو پتہ نہیں تھا۔

دوپہر تک پورے راشٹرپتی نواش میں بات پھیل گئی۔ کچھ لوگوں نے اس کے موبائل پر کال کرکے لنگورنی کو باہر کھدیر دینے کی رائے دی۔ جب تیسری بار یہی رائے دی گئی تو دیپیکا نے غصے سے فون کرنے والے کو ڈپٹ دیا۔ راشٹرپتی نواس پر آنے والے پریٹک بھی گھوم گھوم کر ایک بار اس کے کمرے کے سامنے ٹہل جاتے۔ ایک دو تو شاید یہ فیصلہ بھی نہیں کرپا رہے تھے کہ زیادہ دلچسپ جانور دیپیکا ہے یا موٹا لنگور۔

ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے بعد اب چائے کا وقت ہوچلا تھا۔ بھوک اپنی چرم سیما پر تھی۔ دیپیکا کو ایک یہی آشا رہ گئی تھی کہ بھوک تو موٹے لنگور کو بھی لگی ہوگی۔ آخر وہ بھی تڑکے سویرے سے یہیں تعینات تھا۔ ڈر یہ تھا کہ اس کے غلاموں کی بہت بڑی فوج تھی۔ کیا پتہ وہ اس کے کھانے پینے کا جگاڑ یہیں کردیں۔ تب کیا ہوگا؟ اسی چنتا میں دیپیکا جالی کے دروازے کے پاس لگی کھڑی تھی۔ وہ بھی شاید تاڑ گیا تھا کہ وہ اس کے کھانے میں ویست ہوجانے کا انتظار کررہی تھی تاکہ جلدی سے کمرے سے نکل کر کچھ کھانے کو لے آئے۔ اس نے ”کھوں کھوں“ کرکے اپنے ہونے کا یقین دلایا۔

دیپیکا نے کونے میں رکھی، پانچ چھ دن پہلے لکڑ بازار سے خریدی ہوئی چھڑی اُٹھا لی۔ اس نے باہر سے گھونسا دکھایا۔ کیا کیا جائے؟ حالات ایسے تھے کہ شدید قدم اٹھانے ضروری تھے، لیکن جان پر کھیل جانے جتنی ہمت وہ ابھی تک جُٹا نہیں پائی تھی۔ پھر چھڑی ذرا کھنچتی ہوئی سی لگی۔ نیچے دیکھا تو لنگورنی اسے دونوں ہاتھوں سے تھامے تھی۔ دیپیکا چِڑھ گئی۔ کیسی ہے یہ عورت ذات؟ جو سدا اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے، ہمیشہ اُسے ذلیل کرتا ہے، اس کے ابھی ابھی جمے بچے کے پران لے لینا چاہتا ہے، اسے بھی مار نہیں کھانے دینا چاہتی۔ لعنت ہے! لیکن لنگورنی کی آنکھوں میں گزارش کا نام و نشان نہیں تھا۔ صبح سے پہلی بار ان آنکھوں میں ایک ٹھہراؤ تھا، ایک سبلتا، جسے دیکھ کر دیپیکا نے چپ چاپ چھڑی اس کے حوالے کردی اور وہ اسے کونے میں رکھ آئی۔

دیپیکا سوچ رہی تھی کہ کیا کیا جائے کہ برآمدے کی منڈیر پر اسے ایک چھوٹا سا سِر نظر آیا۔ ننھا سا گول سر اور کالا منہ۔ وہ پوری اوپر چڑھ آئی۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں گول گول سا کچھ تھا۔ ’لو آگئی سیویکا اپنے مالک کے لیے کھانا لے کر۔‘ دیپیکا بڑبڑائی۔ وہ موٹا لنگور بھی زور سے گجبجانے لگا جیسے کہہ رہا ہو — ’اتنی دیر کہاں لگا دی۔ جانتی نہیں میں کتنا بھوکا ہوں؟‘ دھیرے دھیرے کچھ اور سر نمودار ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے، برآمدہ اور باہر کا باغیچہ پچیس تیس چھوٹی بڑی لنگورنیوں سے کلبلانے لگا۔ سب کے ہاتھوں میں کھانا تھا۔

پھر ایک حیرتناک بات ہوئی۔ جو لنگورنی سب سے پہلے آئی تھی اس نے تان کر اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا پھل موٹے لنگور کے سر پر مارا۔ پھر تو جیسے اس پر پھلوں کی بارش ہونے لگی۔ گرنے کی آواز سے سمجھ میں آیا کہ وہ پھل نہیں، گول پتھر تھے جو ہاتھوں میں تھے اور دونوں گالوں میں بھی۔ دو ایک پل تو لنگور ان کے وار سہتا رہا، تین بار بڑھ کر اس نے آگے والی لنگورنی کو مارنے کی کوشش کی، لیکن نشانہ ایسا سدھا ہوا اور تیاری اتنی مضبوط تھی کہ لنگورنی تک پہنچنے سے پہلے، پیچھے سے آنے والے ڈھیلے اس پر چوٹ کر جاتے اور وہ پیڑا سے بلبلا جاتی ۔ پانچ دس سیکنڈ یہ ڈراما چلا، پھر وہ پلٹا اور بھاگا۔ لنگورنیاں اس کا پیچھا کرتی، پتھر برساتیں، اپنی جیت پر کلکاریاں بھر رہی تھیں۔

دیپیکا جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔ ایکتا کا یہ منظر وہ اپنے دِل میں بسا لینا چاہ رہی تھی۔ یہ لنگورنیاں ان سب سے کتنی الگ تھیں جو اس کے خلاف کھڑی ہوگئی تھیں۔ یہ وہ بڑی بہن نہیں تھی جس سے وہ آسرا مانگنے گئی تھی اور جس نے کہا تھا — ”اپنے پتی کی بات مان لو، جیون تو اسی کے ساتھ بِتانا ہے۔“ یہ وہ لیڈی ڈاکٹر بھی نہیں تھی جس نے لِنگ جانچ کرکے بڑی آسانی سے کہا تھا — ”آپ کو ذرا بھی تکلیف نہیں ہوگی، پتہ بھی نہیں چلے گا۔“ نہ یہ وہ نرس تھی جس نے اس کی ٹانگیں اوپر باندھی تھیں تاکہ اوزار آسانی سے اندر گھسائے جاسکیں، آسانی سے اس کے شریر کا جیتا جاگتا انگ کاٹ کر پھینک دیا جاسکے، نہ ہی وہ انیس ٹھیسسٹ تھی جو لگاتار بات کررہی تھی، بے وقوفوں کی طرح ہنس رہی تھی اور بیچ میں لاپرواہی سے بے ہوشی کا انجکشن لگاکر اسے ان لمحوں کے لیے سُلا رہی تھی — جب اس کا گربھ خالی کیا جائے گا۔ وہ سب تو انسان تھیں، پڑھی لکھی، پروفیشنل، خودمختار، سمجھدار اور یہ تو کیول لنگورنیاں تھیں۔ جانور۔ بھلا ان کا اور انسان کا کیا مقابلہ۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے